سٹی کورٹ کراچی نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نامزد ملزم ارمغان کے خلاف غیر قانونی کال سینٹر چلانے اور پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران پروسیکیوشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم ارمغان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن میں مقدمہ درج ہے اور وہ غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دینے میں ملوث رہا ہے، جو پیکا ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس: ایف آئی اے نے ملزم ارمغان کی بیش قیمت ایک اور گاڑی برآمد کرلی
ملزم کے وکیل خرم عباس اعوان نے عدالت کو بتایا کہ تاحال ملزم کے خلاف چالان پیش نہیں کیا گیا، جبکہ تفتیشی افسر نہ تو عدالت میں پیش ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی گواہ پیش کیا گیا ہے۔
وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی تحریری شکایت بھی ریکارڈ پر موجود نہیں، اس لیے مقدمہ کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔
وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ان حقائق کی روشنی میں ملزم ارمغان کی ضمانت منظور کی جائے۔
مزید پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کی پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم کو مقررہ مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ ملزم ارمغان اس سے قبل مصطفیٰ عامر قتل کیس میں بھی گرفتار ہے۔
پولیس کے مطابق مصطفیٰ عامر کو ذاتی رنجش اور مالی تنازع کے باعث قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد تفتیش کے دوران ارمغان کا نام سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: مصطفیٰ عامر قتل کیس کا مرکزی ملزم ارمغان جعل سازی سے کتنے لاکھ ڈالرز کماتا رہا ہے؟
اس مقدمے نے شہر میں خاصی توجہ حاصل کی تھی اور ملزم پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تاہم زیرِ سماعت مقدمہ قتل کے بجائے غیر قانونی کال سینٹر چلانے اور سائبر کرائم سے متعلق ہے، جس میں عدالت نے شواہد اور تفتیشی پیش رفت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ضمانت منظور کی ہے۔
قتل کیس کا ٹرائل بدستور علیحدہ طور پر جاری ہے اور اس فیصلے کا اس پر براہِ راست اطلاق نہیں ہوتا۔














