پاکستان اور چین نے افغانستان میں ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظام کے قیام پر زور دیتے ہوئے افغان سرزمین سے سرگرم تمام دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: سونے کی کان کنی پر طالبان اور مقامی آبادی میں جھڑپیں، متعدد زخمی
یہ بات پیر کے روز بیجنگ میں ہونے والے پاکستان چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی۔
اعلامیے میں دونوں ممالک نے خطے کے استحکام، ترقی اور اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے افغانستان کے معاملے پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغان حکومت کی حوصلہ افزائی پر زور دیا کہ وہ ایک جامع سیاسی فریم ورک قائم کرے، معتدل پالیسیاں اپنائے، ترقی کو ترجیح دے، ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات فروغ دے اور علاقائی استحکام و عالمی انضمام میں تعمیری کردار ادا کرے۔
مزید پڑھیے: افغانستان سے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے والے باغی تصور ہوں گے، افغان علما کا اعلان
اس مکالمے میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار جبکہ چین کی نمائندگی وزیر خارجہ وانگ یی نے کی۔
دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں سرگرم تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس، نمایاں اور قابلِ تصدیق کارروائیاں کی جائیں کیونکہ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
چین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل کوششوں اور پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ چین دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانب سے دی جانے والی نمایاں خدمات اور بھاری قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔
پاکستان اور چین نے دہشتگردی کی تمام اقسام کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر بھی زور دیا کہ چین پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون محفوظ اور پرامن ماحول میں آگے بڑھنا چاہیے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی اپیل کی گئی اور دہشتگردی کے معاملے پر دوہرے معیارات کی سختی سے مخالفت کی گئی۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے تاجکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، 3 دہشتگرد ہلاک
اس کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے کثیرالجہتی فورمز، جن میں چین افغانستان پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ مکالمہ اور چین بنگلہ دیش پاکستان تعاون نظام شامل ہیں، کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا گیا۔














