وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی مین ہیٹن میں وفاقی عدالت کے سامنے پیش کردیا گیا، جہاں ان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔
نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک اچھے انسان ہیں اور انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ مادورو نے عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار کیا اور خود کو بے گناہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: امریکی خواب پریشان: وینزویلا کے تیل ذخائر سے فوری فائدہ ممکن نہیں، ماہرین نے خبردار کردیا
مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن لے جایا گیا، جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔
🚨 SPOTLIGHT NEWS | VENEZUELA
Maduro arrived at a New York City court under tight security ahead of his arraignment.
UN Security Council to meet on the Venezuela issue at 8:30 PM IST, with support from Russia and China.— Spotlight News#USA #Venezuela #madurocaptured pic.twitter.com/okzyMeEv9R
— SPOTLIGHT NEWS (@Spotlight_News1) January 5, 2026
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مادورو کو قیدیوں کے یونیفارم میں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، اور انہوں نے ہسپانوی زبان میں عدالتی کارروائی کو سمجھنے کے لیے ہیڈفون استعمال کیے۔
وفاقی عدالت کے جج نے مادورو سے اپنی شناخت طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔
جج نے مادورو کے خلاف منشیات اور دہشتگردی کے الزامات پڑھے، لیکن مادورو نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہاکہ وہ بے گناہ ہیں اور ان الزامات کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ مجھے اغوا کیا گیا ہے، اور وہ اپنے ملک کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مہذب آدمی ہیں۔
مادورو کی اہلیہ نے بھی اپنی بے گناہی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے قصور ہیں۔
جج نے اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ آگے بڑھاتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں: ’وینزویلا کسی بیرونی طاقت کی کالونی نہیں بنے گا‘، نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں
واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔












