آزاد کشمیر میں ایک بار پھر احتجاج کی تیاریاں، وفاقی وزرا نے ایکشن کمیٹی کو بات چیت کی دعوت دیدی

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے، لیکن کمیٹی کے اراکین کی طرف سے مذاکرات میں عدم شرکت افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو مذاکرات کے لیے دعوت دی ہے، تاہم طے شدہ میٹنگ میں کمیٹی کے ممبران شریک نہیں ہوئے۔

وزیر امور کشمیر امیر مقام نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، اس موقع پر وزیر خزانہ آزاد کشمیر چوہدری قاسم مجید، وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: وفاق اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان موبائل فون سروس کی بحالی سمیت 90 فیصد معاملات طے

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہاکہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک ماہ میں کئی کابینہ اجلاس کیے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کر دیں، اور سنگین نوعیت کی صرف 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین کو بحال کر دیا گیا اور لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے کام جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آزاد کشمیر میں کئی مسائل حل کیے جا چکے ہیں جیسے کہ میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ کی پالیسی کا نفاذ اور واٹر سپلائی سکیموں پر عملدرآمد۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی آزاد کشمیر کا دورہ کیا اور کشمیریوں کو یقین دہانی کروائی۔

انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ معاہدے کے مطابق پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھیجا گیا ہے اور یو ایس ایف کے سی ای او کی تقرری کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی ہے اور سٹوڈنٹ یونین کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا، طارق فضل چوہدری

اس دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور عملدرآمد کے حوالے سے مکمل شفافیت رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک مستقل مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو عوامی مسائل اور معاہدے پر عملدرآمد کو مسلسل مانیٹر کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے احتجاج کے دوران اموات کے باوجود 177 ایف آئی آرز کو ختم کیا اور جوڈیشل کمیشن بنانے کی کارروائی شروع کر دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت مزید بہت ساری درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں جن میں سیلولر انٹرنیٹ سروسز اور زخمیوں اور شہداء کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں سیلولر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے اشتیاق احمد کو یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر تعینات کیا گیا ہے اور دیگر اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاہدے کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی کام ہو چکا ہے اور مظفرآباد میں اس حوالے سے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

ایکشن کمیٹی کے ممبران کی عدم شرکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایکشن کمیٹی نے بغیر کسی وجہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ عوام کے لیے ہیں اور ان کی فلاح کے لیے کیے گئے ہیں۔

’معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے دو اجلاس ہو چکے ہیں‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے دو اجلاس ہو چکے ہیں اور آج کا اجلاس بھی طے شدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی عدم شرکت سے عملدرآمد کے عمل میں سست روی آ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے گھروں کا سامان جلادیا، اللہ نے ہماری جان بچائی، زخمی پولیس اہلکار نے سب کچھ بتادیا

واضح رہے کہ گزشتہ سال 29 ستمبر کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم پاکستان نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تین دن کے مذاکرات کے بعد 36 نکات پر معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد حکومت نے اس پر عملدرآمد کی کارروائی شروع کر دی تھی۔

اب جبکہ آزاد کشمیر میں دوبارہ احتجاج کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، وفاقی حکومت نے ایکشن کمیٹی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے اور حالات مزید بگڑنے سے بچ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟