برطانیہ میں فلسطینی سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا ہے۔
لندن میں فلسطین کے سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح پیر کے روز ایک مختصر تقریب میں کیا گیا۔ فلسطینی سفیر حسام زملط نے اس موقع کو برطانوی فلسطینی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ خوشی بھی، تشویش بھی‘، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر عوامی ردعمل
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر نے کہا کہ آج ایک تاریخی لمحہ منایا جارہا ہے جب ریاست فلسطین کے سفارتخانے کو برطانیہ میں مکمل سفارتی حیثیت اور مراعات کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ اس عمارت کو اس سے قبل فلسطینی مشن کے طور پر جانا جاتا تھا۔
فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ اس وقت دیا گیا جب برطانیہ نے ستمبر 2025 میں آسٹریلیا، کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ غزہ میں انسانی صورتحال پر عالمی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔

روایتی سیاہ و سفید فلسطینی اسکارف پہنے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملط نے کہا کہ یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت ایک واضح پیشرفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حامی امریکیوں میں اضافہ، تازہ ترین سروے
انہوں نے کہا کہ نئے سال کا آغاز اس تاریخی قدم کے ساتھ ہونا امید اور استقامت کی علامت ہے اور یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاف، وقار، برابری اور باہمی تسلیم کی بنیاد پر امن ناگزیر ہے۔
تقریب میں فلسطین اور برطانیہ کے قومی پرچم آویزاں تھے۔
فلسطینی سفیر کے بعد خطاب کرتے ہوئے برطانوی سفارتی نمائندے الیسٹر ہیریسن نے اسے امید کا لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ انہوں نے فلسطینی سفیر اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا لکسمبرگ کے ریاستِ فلسطین تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم
دوسری جانب برطانوی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس سوال پر کوئی ردعمل نہیں دیا کہ آیا برطانیہ فلسطینی علاقوں میں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔














