قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ جرمانہ انٹرنیشنل لیگ ٹی20 کے فائنل میں کی جانے والی ایک غلط حرکت پر عائد کیا گیا۔
22 سالہ نسیم شاہ جو انٹرنیشنل لیگ ٹی20 میں ڈیزرٹ وائپرز کی نمائندگی کر رہے تھے، کو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے لیول 1 خلاف ورزی کرنے پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی کا نیوزی لینڈ کے خلاف سلو اوور ریٹ پر پاکستان کو جرمانہ
یہ واقعہ اتوار کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے لیگ کے سیزن 4 کے فائنل کے دوران پیش آیا، جب ڈیزرٹ وائپرز اور ایم آئی ایمریٹس کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا۔
نسیم شاہ کو آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جو کہ آؤٹ ہونے کے بعد بیٹر کو اشتعال دلانے یا توہین آمیز رویے، زبان یا اشاروں کے استعمال سے متعلق ہے۔
تنازع کی تفصیلات
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایم آئی ایمریٹس کے کپتان کیرون پولارڈ نے نسیم شاہ کی گیند کا دفاع کیا اور گیند سیدھی نسیم کی طرف آئی۔ گیند پکڑ کر نسیم شاہ نے مسکراتے ہوئے پولارڈ کی طرف دیکھا، جس پر پولارڈ نے جارحانہ ردعمل دکھایا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
اس دوران دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے قریب آ گئے، اور پولارڈ واضح طور پر غصے میں دکھائی دیے جبکہ نسیم شاہ بھی ان کے جواب میں بولتے نظر آئے۔ امپائرز اور ڈیزرٹ وائپرز کے کھلاڑیوں نے فوراً مداخلت کر کے معاملہ ختم کرایا، تاہم دونوں کھلاڑی ناخوش دکھائی دے رہے تھے۔
مزید پڑھیں: فخر زمان کو سخت لہجہ اختیار کرنا مہنگا پڑگیا، آئی سی سی نے کڑی سزا سنا دی
اس میچ کے اختتام پر ڈیزرٹ وائپرز نے ایم آئی ایمریٹس کو 46 رنز سے شکست دے کر پہلی بار انٹرنیشنل لیگ ٹی20 کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔














