وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منگل 6 جنوری 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈاکٹر سائمن گوڈیک ایک ممتاز مغربی سائنس دان، دانشور اور کانسپرنسی تھیورسٹ ہیں۔ ان کی کئی تھیوریز سوشل میڈیا پربڑی وائرل ہوئیں۔ آج کل ڈاکٹر سائمن کی “ٹریڈ آف” تھیوری ڈسکس ہو رہی ہے، یہ امریکا کے وینزویلا پر حملے کے حوالے سے ہے۔

اس “ٹریڈ آف” تھیوری پر بات کرنے سے پہلے ڈاکٹر سائمن گوڈیک کی آرا پر نظر ڈالتے ہیں جسے ان کے ناقدین سازشی تھیوریز قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سائمن کا فکر کے بنیادی اجزا یہ ہیں: دنیا اصل میں عوام نہیں، ایلیٹ یعنی اشرافیہ چلا رہی ہے۔ ریاستیں ڈمی ہیں، اصل فیصلے بند دروازوں کے پیچھے بین الاقوامی پاور سرکلز میں ہوتے ہیں۔ جنگیں، وبائیں،معاشی بحران وغیرہ یہ سب مصنوعی اور کنٹرول کرنے کے ٹولز ہیں۔

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی تھیوریز

ڈاکٹر سائمن کے مطابق اصل طاقت امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس (اسلحہ ساز انڈسٹری )،ٹیک سنسر شپ نیٹ ورکس (فیس بک، واٹس ایپ ، ٹوئٹر ایکس ، ٹیلی گرام ، یوٹیوب وغیرہ وغیرہ )،بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور دنیا کے چند امیر ترین افراد کے ہاتھ میں ہے۔ سائمن گوڈیک مغربی میڈیا کے بھی شدید نقاد ہیں۔ ان کے مطابق ویسٹرن میڈیا جھوٹا اور کمپرومائزڈ ہے۔ یہ کرائسس کے وقت ایک ہی زبان بولتا ہے، صرف مخصوص سرکاری بیانیہ۔ جو ان سے اختلاف کرے اس کی بات کو ڈس انفارمیشن اور کانسپرنسی تھیوری کہہ کر تمسخر اڑاتے ہیں۔

صدام کے تباہ کن ہتھیاروں کا جھوٹ ہو، لبیا میں قذافی کی حکومت بدلنا، افغانستان پر حملے کا جواز بنانا اور پھر پچھلے برسوں میں کووڈ، تائیوان، یوکرائن وار اور غزہ ہر جگہ اسی میڈیا نے ایک ہی کردار ادا کیا۔ تواتر سے جھوٹ بولے۔

کووڈ کا اس لیے ذکر آیا کہ ڈاکٹر سائمن کووڈ کے بھی ناقد ہیں اور اس پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس سب کے پیچھے بھی کوئی بڑی گیم تھی اور یہ وبا اچانک نہیں آئی، اسے پھیلایا گیا اور اس کے پیچھے کچھ اور مقاصد تھے۔ سائمن الیکشن کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ امریکی صدارتی الیکشن پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات عوام کو مصروف رکھنے کا طریقہ ہیں جبکہ اصل طاقت منتخب اداروں کے پاس نہیں، بلکہ وہیں رہتی ہے جہاں پیسہ، اسلحہ اور ڈیٹا اکٹھا ہو۔ عوام کو سب کچھ جاننے کی اجازت نہیں،کیونکہ اگر وہ جان لیں تو نظام کا جادو ٹوٹ جائے گا۔

وہ اخلاقیات کا بھی بے رحمی سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی قوتیں خاص کر مغرب اخلاقیات کی باتیں اپنے مفاد اور مطلب میں کرتا ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت جنگ کے اسباب نہیں،بلکہ جنگ کو بیچنے کے الفاظ ہیں۔

‘ٹریڈ آف’

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی ٹریڈ آف تھیوری بھی دلچسپ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اشرافیہ اگر کووڈ جیسی وبا مینیج کر سکتی ہے تو پھر ممالک کے جغرافیہ بھی یہ مینیج کر سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا تیسری ورلڈ وار کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لیے اشرافیہ اور دنیا کے کرتا دھرتا براہ راست ٹکراؤ سے گریز کریں گے۔ اس کے بجائے خاموش مفاہمت، مخصوص مواقع پر اشتعال اور احتجاج جبکہ زور پراکسی وارز پر لگایا جائے گا۔

یوکرائن وار کے دوران ڈاکٹر سائمن نے اندازہ لگایا کہ امریکا اب گلوبل پولیس مین کے کردار سے تھک گیا ہے، روس براہ راست ٹکراؤ نہیں چاہتا جبکہ چین صرف وقت لے رہا ہے۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ ان معاملات میں یہ سپرپاورز آپس میں اندرکھاتے کوئی ڈیل کرچکی ہوں۔ یہ ڈیل یوکرائن، تائیوان اور لاطینی امریکا میں ہوسکتی ہے۔ دنیا نقشے پر نہیں،طاقت کے دائرے میں تقسیم ہو رہی ہے۔ شور عوام کے لیے ہے، حساب کتاب بند کمروں میں۔

وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد ڈاکٹر سائمن گوڈیل نے اپنی ٹریڈ آف تھیوری پھر سے بیان کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کے علاوہ دوسری دونوں بڑی قوتوں نے وینزویلا کا اس طرح ساتھ کیوں نہیں دیا جیسا دینا چاہیے تھا؟ وہ مذمت تو کر رہی ہیں، مگر اس مذمت سے کیا وینزویلین صدر واپس اقتدار میں آجائے گا؟ ظاہر ہے نہیں۔ ڈاکٹر سائمن گوڈیل کو خدشہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکا نے یوکرائن میں روس کو اس کا من پسند بڑا حصہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہو جبکہ عین ممکن ہے ایسا تائیوان میں چین کو کرنے دیا جائے جبکہ جواب میں امریکا نے وینزویلا میں اپنی ناپسندیدہ حکومت تبدیل کرکے ایک طرح سے پورا ملک ہی اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ کولمبیا میں یہی سب کچھ ری پلے ہوجائے اور یہ سب دیگر بڑی قوتوں کی خاموش رضامندی سے ہو؟

وینزویلا کے بعد اگلا ہدف کون؟

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی باتیں تو چلو کانسپرنسی تھیوریز میں آتی ہیں۔ کانسپرنسی یا سازشی تھیوری کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ سچ بھی ثابت ہوجاتی ہے اور بے بنیاد بھی نکلتی ہیں ۔ اس لئے ہم اسے سردست چھوڑ دیں تب بھی یہ تو بہرحال حقیقت ہے کہ امریکا نے اپنے اس اقدام سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر اس طرح کا شدید ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ امریکی ڈیلٹا فورس ایک ملک میں گھس جائیں اور جھپٹ کر اس کے صدر کو بیوی سمیت اغوا کرکے اپنے ملک لے آئیں اور پھر کمال ڈھٹائی کے ساتھ اس پر مقدمہ بھی چلانا شروع کر دیں۔ پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایسا ہوا نہ کسی کو ایسا کرنے کی توقع تھی۔

بعض لوگ 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں آپریشن کا تذکرہ کریں گے۔ وہ آپریشن بھی نہایت افسوسناک تھا، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا،مگر یہ بہرحال یاد رکھیں کہ وہ کسی پاکستانی شہری کے خلاف نہیں تھا۔ دنیا کے سب سے مطلوم مجرم کے خلاف آپریشن تھا اور پاکستانی حکومت بھی اس مجرم کے خلاف تھی، اسے پکڑنے کے لئے کئی آپریشن اور کارروائیاں کر چکی تھی۔ تب پاکستانی اور امریکی اہلکار القاعدہ اور طالبان کے خلاف بعض مشترکہ آپریشن بھی کررہے تھے۔ ایبٹ آباد آپریشن میں بھی پاکستان یہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا کہ اس بندے کو کیوں مارا؟

اعتراض یہ تھا کہ بغیر اجازت پاکستانی سرزمین میں کیوں گھس کر کارروائی کی۔ ہمیں پہلے سے بتاتے تو ہم مشترکہ آپریشن کرتے۔ یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ایبٹ آباد آپریشن درست تھا۔ نہیں وہ ہر اعتبار سے غلط اور غیر قانونی، غیر اخلاقی تھا۔ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑآئی گئی تھیں۔ تاہم وینزویلا کے صدر کو ان کے اپنے ملک، شہر میں گھس کو اٹھالانا تو بالکل ہی مختلف نوعیت کا معاملہ ہے۔ انتہائی سنگین قوانین کی خلاف ورزی۔ یہ سب مگر ہوا اور دنیا صرف برائے نام مذمت کے کچھ بھی نہیں کر رہی۔

اس سے اب ہو گا کیا؟ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ امریکا اور صدر ٹرمپ عالمی ردعمل کی سرے سے کوئی پروا نہیں کر رہے۔ وہ صرف امریکہ کو طاقتور ترین ملک بنانا چاہتے ہیں جس کے ہاتھ میں دنیا کی نادر ترین معدنیات، تیل اور گولڈ کے ذخائر ہوں۔ وینزویلا کے خلاف آپریشن میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مقصد صرف صدر کو ہٹانا نہیں بلکہ ملک کو کنٹرول کرکے چلانا ہے اور اب وینزویلا کا تیل امریکی کمپنیاں ہی ڈیل کریں گی۔ جس خاتون نائب صدر نے اقتدار سنبھالا ہے، ان کے بارے میں بھی مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے مخبری کی تھی اور دراصل وہ سی آئی اے کی اثآثہ یعنی ایجنٹ ہیں۔

یہ بات اس لئے بھی قرین قیاس لگ رہی ہے کہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر جنہیں پچھلے سال نوبیل انعام بھی ملا، صدر ٹرمپ انہیں بھی رد کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ صدر مادورو کی نائب صدر کو ان کی خدمات کا صلہ دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ وہ صدر بن گئی ہیں اور اب وہ وہی کریں گی جو صدر ٹرمپ چاہیں گے۔

کولمبیا،گرین لینڈ، ایران

ماہرین اندازے لگا رہے، تجزیے کر رہے ہیں کہ اگلا ہدف کون ہوسکتا ہے۔ کولمبیا ایک آسان ہدف نظر آرہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی اپنے انٹرویو میں کولمبین صدر پر سخت تنقید کی اور انہیں اپنے مخصوص انداز میں بیمار شخص قرار دیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اگلے چند دنوں میں وہاں بھی رجیم چینج ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وینزویلا کے آپریشن سے کولمبین حکومت سہم کر وہ سب مان لے جو صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔

گرین لینڈ اپنی رئیر ارتھ منرلز کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو بہت مرغوب ہے۔ وہ کئی بار پہلے بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ علاقہ روسی اور چینی جہازوں میں گھرا ہے اور امریکا کو اپنے دفاع کے لئے گرین لینڈ چاہیے۔ اس وقت ڈنمارک کا اس پر کنٹرول ہے، مگر ڈنمارک امریکی کی مدافعت کرنے کی قطعی پوزیشن میں نہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے البتہ یہ دھمکی دی ہے کہ اگرگرین لینڈ پر امریکا نے قبضہ کیا تو پھر نیٹو ٹوٹ جائے گا کیونکہ نیٹو کے قانون کے مطابق ایک نیٹو ممبر پر کسی ملک کا حملہ پورے نیٹو پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی نظروں میں نیٹو کی کس قدر اہمیت ہے؟ کیا خبر وہ چاہتے ہوں کہ یہ پرانا بوسیدہ، ازکار رفتہ اتحاد نیٹو اب ٹوٹ ہی جائے۔

ایران پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کو باقاعدہ دھمکی دے چکے ہیں ۔ دوسری طرف ایران میں عوامی مظاہرے اس قدر شدید ہوچکے ہیں کہ حکومت عملاً مفلوج ہوچکی۔ ان مظاہروں میں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ایران کی تباہ حال معیشت، خوفناک حد تک نیچے گر جانے والی ایرانی کرنسی اور کئی عوامی حلقوں کی موجودہ ایرانی رجیم سے ناخوشی اور اختلاف شامل ہے۔ البتہ ایران میں صورتحال اس حد تک مختلف ہے کہ وہاں پر امریکا حملہ یا اسرائیل کی جانب سے عوامی مظاہروں کی حمایت سے بھی عوامی احتجاج کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایرانی اپوزیشن یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ امریکا حملہ کرے کیونکہ ایسی صورت میں عوام حکومت کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔

گزشتہ 2 دنوں سے کئی مغربی جرائد ایرانی رہبر انقلاب کے حوالے سے منفی خبریں بھی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے حالات زیادہ بگڑنے کی صورت میں روس جانے کی پلاننگ کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سائیکالوجیکل وارفیئر کا حصہ لگ رہا ہے۔ ایران میں تبدیلی جب بھی آئے گی اندر سے آئے گی، حالات وہاں اس وقت خاصے مشکل اور پریشان کن ہوچکے ہیں، تاہم امریکی حملہ ایران میں حکومت نہیں تبدیل کر سکتا۔

ویسے دنیا بھر میں ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے کسی بھی قسم کے انتہائی قدم کی توقع کی جانی چاہیے۔ وینزویلا پر حملے نے ایک بڑا بیرئر توڑ ڈالا ہے۔ اب یہ طوفان کس کس کو بہا کر لے جائے، کوئی نہیں جانتا۔ ہر کوئی اپنی جگہ سہما بیٹھا ہے، وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کا نمبر جلدی لگ جائے۔

روس اور چین جیسی سپر پاورز بھی نجانے کیا سوچ رہی ہیں؟ شائد وہ اپنے انداز اور اپنے حساب سے اگلی جنگیں لڑنا چاہتے ہیں، معیشت کے میدان میں۔ یا پھر اپنی ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ امریکا کو پیچھے چھوڑسکیں۔ ویسے تو کون جانے اس سب کے پیچھے اصل اور حقیقی کھیل کیا کھیلا جارہا ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ڈاگ بائٹ کے کیسز میں اضافہ، آوارہ کتوں کو مارنا ناگزیر ہوچکا ہے، مرتضیٰ وہاب

بنگلادیش بھارت میں ورلڈکپ نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم، آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھنے کا عندیہ

بابر اعظم بھی انسان ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ بیٹنگ میں بہتری لے آئیں، شاہین شاہ آفریدی

شاہین آفریدی کا بیٹا بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ کرکٹر نے بتادیا

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟