رائٹرز/ایپسوس کے ایک سروے کے مطابق، لگ بھگ 33 فیصد امریکیوں نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی حمایت کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے صدر کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، جبکہ 72 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ امریکا جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں حد سے زیادہ مداخلت کر بیٹھے گا۔
اس 2 روزہ سروے کے نتائج کے مطابق 65 فیصد ریپبلکنز نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی اس فوجی کارروائی کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح صرف 11 فیصد اور آزاد ووٹرز میں 23 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟
ہفتے کی صبح علی الصبح امریکی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک مہلک کارروائی کی، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔
امریکی فوج نے صدر مادورو کو منشیات کی مبینہ اسمگلنگ سے متعلق الزامات کے تحت مقدمے کے لیے وفاقی حکام کے حوالے کر دیا۔
It should be 0% of Americans approve of US strike on Venezuela. At least some people here in the US have a conscience.
'Only 33% of Americans approve of US strike on Venezuela, Reuters/Ipsos poll finds'https://t.co/ZvvNeULmQg pic.twitter.com/PIPgMMHHld
— Christy Franklin (@Alisaisil) January 5, 2026
یہ کارروائی اور اس کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا اب وینزویلا کو چلائے گا، ایک ایسے صدر کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے جو ماضی میں امریکی قیادت پر بیرونی تنازعات میں الجھنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا تھا کہ اس کی توجہ بنیادی طور پر ملکی معیشت پر مرکوز رہے گی، جو کہ اس سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
یہ انتخابات ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری 2 برسوں کے لیے کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے۔
ریپبلکنز کی ’غلبے‘ پر مبنی پالیسی کی حمایت
اتوار اور پیر کو کیے گئے رائٹرز/ایپسوس سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ریپبلکنز کی بڑی تعداد ایک ایسی خارجہ پالیسی کی حامی ہے جس میں ہمسایہ ممالک پر اثر و رسوخ بڑھانا شامل ہو۔
تقریباً 43 فیصد ریپبلکنز نے اس بیان سے اتفاق کیا کہ امریکا کو مغربی نصف کرے میں معاملات پر غلبہ حاصل کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے، جبکہ 19 فیصد نے اس سے اختلاف کیا۔ باقی افراد غیر یقینی کا شکار رہے یا انہوں نے جواب نہیں دیا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا غیر معینہ مدت تک وینزویلا کو چلائے گا اور وہاں زمینی افواج بھی بھیج سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں تیل کی بحالی: ٹرمپ کے امریکی آئل کمپنیوں سے اہم مذاکرات متوقع
وینزویلا کی تیل کی صنعت میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے انہوں نے اتوار کو کہا کہ امریکا کو اس ملک کے وسیع تیل کے ذخائر تک مکمل رسائی درکار ہے۔
سروے کے مطابق 60 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا میں امریکی فوج تعینات کرنے کی حمایت کی، جبکہ مجموعی طور پر امریکیوں میں یہ شرح 33 فیصد رہی۔ اسی طرح 59 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا کے تیل کے کنوؤں پر امریکی کنٹرول کی حمایت کی۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ وینزویلا کو چلانے کے اپنے وعدے پر کس طرح عملدرآمد کریں گے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا
اتوار کو ان کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ واشنگٹن براہِ راست حکومت کرنے کے بجائے وینزویلا کی قیادت کو دباؤ میں رکھ کر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
’اگر وہ درست رویہ اختیار نہیں کریں گے تو ہم دوسرا حملہ کریں گے۔‘
اس کے باوجود سروے میں 65 فیصد ریپبلکنز نے وینزویلا پر امریکی حکمرانی کی حمایت کی۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
دوسری جانب، امریکی مداخلت کے ممکنہ نتائج پر ریپبلکنز کے درمیان رائے منقسم نظر آئی۔ تقریباً 54 فیصد ریپبلکنز کو خدشہ ہے کہ امریکا وینزویلا میں ضرورت سے زیادہ الجھ جائے گا۔
اتنی ہی تعداد نے مالی اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جبکہ 45 فیصد نے ان خدشات کو مسترد کیا۔ مزید برآں، 64 فیصد ریپبلکنز کو اس بات کا خوف ہے کہ امریکی مداخلت سے فوجی اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ملک بھر سے 1,248 بالغ امریکی شہریوں پر مشتمل اس سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 42 فیصد رہی، جو اکتوبر کے بعد بلند ترین سطح ہے اور دسمبر کے سروے میں موجود 39 فیصد سے زیادہ ہے۔
آن لائن کیے گئے اس سروے میں غلطی کا امکان تقریباً 3 فیصد پوائنٹس تک بتایا گیا ہے۔













