پاکستان کے بیرونی قرضوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مقامی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مجموعی طور پر ملک پر قرضوں کا دباؤ 80 ہزار 681 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی مقامی قرضے ایک سال میں 12.7 فیصد اضافے سے 48 ہزار 584 ارب روپے سے بڑھ کر 54 ہزار 619 ارب روپے ہو گئے ہیں۔ ایک ماہ کے دوران مقامی قرضوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 53 ہزار 966 ارب روپے سے بڑھ کر نومبر 25 میں 54 ہزار 619 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم کا آغاز، وزیر اعظم شہباز شریف کی نیویارک سے ورچوئل شرکت
بیرونی قرضوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے سالانہ بنیاد پر 5.3 فیصد اضافے سے 21 ہزار 780 ارب روپے سے بڑھ کر نومبر 25 میں 22 ہزار 925 ارب روپے ہو گئے۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر بیرونی قرضوں میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 23 ہزار ارب روپے سے کم ہو کر 22 ہزار 925 ارب روپے رہ گئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرض ایک سال میں 10.2 فیصد اضافے سے 70 ہزار 365 ارب روپے سے بڑھ کر 77 ہزار 543 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک ماہ کے دوران مجموعی قرضوں میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 76 ہزار 970 ارب روپے سے بڑھ کر 77 ہزار 543 ارب روپے ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گزشتہ 3 سالوں میں پاکستان کی جانب سے دگنے قرضے لیے جانے کا معاملہ، وزارت خزانہ نے تمام خبروں کی تردید کردی
کراچی سے جاری اعداد و شمار کے مطابق حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم 1 ہزار 474 ارب روپے ہے جبکہ حکومتی قرضوں کے علاوہ سرکاری ضمانتوں کی رقم 1 ہزار 664 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اس طرح پاکستان کے قرضے، سود کی ادائیگیاں اور سرکاری ضمانتوں کا مجموعی حجم 80 ہزار 681 ارب روپے ہو گیا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔














