پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک پہنچ گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے نہ ہی سمجھا جائے۔ کیونکہ نہ پانچ بڑے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور ملاقات کے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں: ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کردیا
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات آگے نہیں بڑھ سکتی، اور حالات معمول پر لانے کے لیے بھاری قیمت وصول کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حالات کو درست کرنے کی جتنی کوشش کی، دوسری طرف نے اتنی ہی کوشش حالات خراب کرنے کے لیے کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کارکنان کو پارٹی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا اور کہاکہ ریاست کی سختیوں کے باوجود کارکنان نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کہتے ہیں عدالتی احکامات رولز کے باوجود ملاقات نہیں کرائی جارہی ہم ہر ہفتے آتے ہیں یہاں کھڑے ہوجاتے ہیں بھیک ہی ہوگئی، اس تناظر میں بات کی تھی مگر کسی نے اس کو غلط رنگ دیدیا۔۔اڈیالہ کے باہر گفتگو pic.twitter.com/J0Tt11MOSd
— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) January 6, 2026
انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیاکہ حالات معمول پر لانے کے لیے عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے گئے ہیں اور جو لوگ حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ انہیں عمران اسماعیل کا فون بھی آیا، لیکن پارٹی نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا کیونکہ پارٹی کو تحفظات تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے لوگ پبلک میں کوئی کمنٹ نہیں کرتے۔
چیئرمین نے وضاحت دی کہ بھیک مانگنے کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ عدالتی احکامات، ایس او پیز اور قوانین موجود ہونے کے باوجود ملاقاتیں نہیں دی جا رہی ہیں، اور اگر عدالتی احکامات کے باوجود اجازت نہ دی جائے تو یہ خود ایک بھیک کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام ساکت ہو چکا ہے اور گزشتہ فروری سے لیڈرشپ سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے، اور پانچ بڑوں کی ملاقات کا تصور منطقی نہیں ہے۔ اسپیکر نے نوٹیفکیشن کے حوالے سے آئندہ اجلاس تک فیصلہ کرنے کا کہا ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس سے قبل اپوزیشن لیڈرز کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے۔
بیرسٹر گوہر نے پیپلز پارٹی سے توقع ظاہر کی کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو مکمل پروٹوکول دینے کی حمایت کی۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے پھر کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، علیمہ خان کا کارکنان کے ساتھ دھرنا
انہوں نے بتایا کہ سینیٹر علی ظفر بانی کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ابڑو صاحب کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کبھی بھی سبوتاژ نہیں کرے گی اور وہ اس عہدے پر تب تک رہیں گے جب تک انہیں بانی کا اعتماد حاصل ہے۔














