مائیکل شوماخر کا انتقال، لیکن یہ وہ نہیں!

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی مصنف مائیکل شوماخر 75 سال کی عمر میں 29 دسمبر 2025 کو دار فانی سے کوچ کر گئے لیکن دنیا میں بہت سے لوگوں یہ سمجھ بیٹھے کہ جرمنی کے سابق فارمولا 1 ریس کے ڈرائیور کا انتقال ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فارمولا ون ڈرائیور کارلوس سینز کی تیز رفتاری کام آگئی، قیمتی گھڑی بازیاب

امریکی مصنف مائیکل شوماخر۔

 مصنف وسکونسن کے مشہور بایوگرافر تھے اور اپنی کتابوں کے لیے جانے جاتے تھے، جن میں فرانسس فورڈ کوپولا: اے فلم میکرز دی لائف، کراس روڈز: دی لائف اینڈ میوزک آف ایرک کلیپٹن اور بیٹ شاعر ایلن گنسبرگ پر لکھی گئی دھرما لائن شامل ہیں۔ انہوں نے این بی اے کے اسٹار جارج مائیکن پر مسٹر باسکٹ بال اور گرافک ناول کے بانی ول آئسنیئر پر ول آئسنیئر: اے ڈریمرز لائف اِن کامکس بھی لکھی۔

ان کی وفات کی تصدیق ان کی بیٹی ایملی جوی شوماخر نے کی تاہم موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

تاہم ان کی وفات کی خبر نے سوشل میڈیا پر شدید الجھن پیدا کر دی کیونکہ ان کا نام 7 مرتبہ کے فارمولا 1 عالمی چیمپییئن مائیکل شوماخر جیسا ہی ہے۔ کئی صارفین نے غلطی سے ریسنگ لیجنڈ کے لیے خراج عقیدت پیش کیا۔

مزید پڑھیے: بریڈ پٹ کی فارمولا ون ریسنگ فلم ’F1‘ کا ٹیزر ٹریلر جاری

ایک صارف نے لکھا کہ آج مجھے پتا چلا کہ دنیا میں 2 مائیکل شوماخر ہیں۔

ایک اور صارف نے ٹوئٹ کیا کہ ’مائیکل شوماخر، لیجنڈری ریسنگ ڈرائیور نہیں بلکہ مشہور مصنف انتقال کر گئے ہیں۔ یہ ایک اور شخص ہیں اور دونوں جن کا نام ایک جیسا ہے۔

جلد ہی وضاحتیں سامنے آئیں کہ فارمولا 1 کے مائیکل شوماخر ابھی زندہ ہیں۔ یہ الجھن ظاہر کرتی ہے کہ ملتے جلتے نام آج کے دور میں خبریں وائرل ہونے کے دوران کتنی جلدی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ انتقال کرجانے والے مصنف مائیکل شوماخر ایک معتبر اور معروف امریکی بایوگرافر ضرور تھے لیکن وہ عوام یا میڈیا میں وہ اتنے زیادہ مشہور نہیں تھے جتنے کہ فارمولا 1 کے 7 بار کے عالمی چیمپییئن مائیکل شوماخر ہیں۔

دوسری جانب مشہور زمانہ فارمولا 1 ڈرائیور مائیکل شوماخر جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں فارمولا 1 کی تاریخ کے عظیم ترین ڈرائیورز میں شمار کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: چینی ناول نگاری کا اہم باب بند، چیانگ یاؤ کی پراسرار موت

انہوں نے اپنے کیریئر میں 7 بار ورلڈ چیمپییئن شپس جیتیں جن میں سے 5 مسلسل ان کے حصے میں آئیں(2000 تا 2004)۔ یہ ریکارڈ آج بھی فارمولا 1 میں کسی نے نہیں توڑا۔

وہ بینٹلی ٹیم اور بعد میں فراری ٹیم کے لیے ریسنگ کرتے رہے اور فراری کے ساتھ ان کی کارکردگی نے ٹیم کو کئی دہائیوں بعد عالمی چیمپیئن شپ دلائی۔

شوماخر نہ صرف رفتار اور ٹیکنیکل مہارت کے لیے مشہور تھے بلکہ ریس اسٹریٹجی، ٹیم ورک اور ڈرائیور ڈسپلن کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کے فنی علم اور مستقل محنت نے انہیں نہ صرف  فارمولا 1 کے مداحوں کا پسندیدہ بنایا بلکہ نوجوان ڈرائیورز کے لیے بھی ایک مثالی نمونہ بنایا۔
لیکن یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ   57سالہ سابق فارمولا 1 ڈرائیور شوماخر حیات تو ہیں لیکن 2013 میں فرانس میں ہوئے اسکینگ حادثے کے بعد سے ان کی صحت کی صورتحال بہت سیریس ہے۔ اس حادثے میں ان کا سر شدید زخمی ہوا تھا، جس کے بعد انہیں طویل مدت کے لیے طبی نگہداشت کی ضرورت پڑی۔ وہ اب گھر پر ایک ٹیم کے زیرِ علاج ہیں اور صرف قریبی اہلِ خانہ اور چند مخصوص افراد ہی ان سے مل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: عہد ساز برطانوی ناول نگار مارٹن ایمس انتقال کرگئے

شوماخر اب قدرتی طور پر چل پھر نہیں سکتے اور بات کرنے کی صلاحیت بھی بہت محدود ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ صرف آنکھوں کی مدد سے محدود انداز میں اظہار کر سکتے ہیں۔ ان کی فیملی نے ان کی صحت اور نجی زندگی کو میڈیا سے مکمل طور پر محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ان کے لیے مستقل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن مکمل صحتیابی ممکن نہیں لگتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp