وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بات سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی جو سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورس کرنے سے متعلق اہم اجلاس
اجلاس کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تینوں ایئرپورٹس مالی طور پر منافع بخش ہیں تاہم وہاں فراہم کی جانے والی سروسز کا معیار مطلوبہ سطح پر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد خدمات ماہر نجی کمپنیوں کے سپرد کی جائیں گی، چاہے یہ کمپنیاں غیر ملکی ہوں، تاہم قیادت پاکستانی ہاتھوں میں رکھنے کو ترجیح دی جائے گی۔
سیکریٹری دفاع نے پی آئی اے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم اصل مسئلہ طیاروں اور وسائل کی کمی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے پاس 17 سے 18 طیارے موجود ہیں جو ہفتہ وار قریباً 490 پروازیں آپریٹ کر رہے ہیں، جبکہ برطانیہ اور یورپ کے تمام روٹس مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
کمیٹی اجلاس میں چترال کے لیے پروازوں کی بحالی کی سفارش بھی کی گئی، جس پر سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ نجکاری کے بعد 15 ماہ کے دوران قومی ایئر لائن میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو خریدار کی جانب سے قانونی طور پر ادا کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چترال کا روٹ خسارے کے باعث بند کیا گیا تھا، تاہم کنسورشیم کو تجویز دی جائے گی کہ چھوٹے طیاروں کے ذریعے ایسے روٹس دوبارہ بحال کیے جائیں۔
سیکریٹری دفاع نے سیاحت کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے 100 بڑے پہاڑوں میں سے 62 پاکستان میں واقع ہیں، لیکن پاکستان میں سالانہ صرف 15 ہزار افراد ہائیکنگ کے لیے آتے ہیں، جبکہ نیپال میں یہ تعداد 15 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال میں بھی سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ریلویز نے نئی ٹکٹ ریفنڈ پالیسی متعارف کرادی
کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ایک نئی فضائی کمپنی ’ساؤتھ ایئر‘ متعارف کرائی جا رہی ہے جو شمالی بلوچستان پر توجہ دے گی، اور جون 2026 تک اس کے بیڑے میں 5 سے 6 اے ٹی آر طیارے شامل ہونے کی توقع ہے۔













