امریکی افواج کی جانب سے گزشتہ ہفتے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کیوبا اپنی حالیہ تاریخ کے ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
امریکی کارروائی میں صدر مادورو کو کاراکس سے ہٹا کر نیویارک میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کا عمل شامل تھا، جس کے دوران مادورو کے حفاظتی دستے میں شامل 32 کیوبن فوجی ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کولمبیا سے کیوبا تک، وینزویلا کے بعد کونسے ممالک امریکی حملے کا شکار ہوسکتے ہیں؟
یہ دستہ کیوبا کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی اعتبار سے بھی کلیدی اہمیت رکھتا تھا، اور اس واقعے کے ساتھ ہی جزیرے کی سب سے بڑی معاشی شہ رگ اچانک منقطع ہو گئی۔
یہ دھچکا ایسے وقت میں لگا ہے جب کیوبا پہلے ہی توانائی اور صحت کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، جسے کئی دہائیوں میں بدترین قرار دیا جا رہا ہے اور جو اب مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
Cuba is facing a moment of uncertainty after the arrest of Venezuelan President Nicolas Maduro. With its closest ally gone, many are questioning what comes next and whether new global powers will step in to support the island. pic.twitter.com/t3KBu8umMl
— DW News (@dwnews) January 6, 2026
دو دہائیوں سے زائد عرصے تک وینزویلا کے ساتھ اتحاد کیوبا کی حکومت کے لیے ایک تذویراتی ستون رہا، رعایتی تیل کے بدلے طبی اور سیکیورٹی خدمات کے تبادلے نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کیوبا کی معیشت کو سہارا دیا اور امریکی پابندیوں کے اثرات کو کسی حد تک کم رکھا۔
صدر مادورو کے زوال اور کاراکس میں ممکنہ نظامِ حکومت کی تبدیلی نے اس توازن کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کیوبا شدید معاشی اور سیاسی عدم تحفظ کا شکار ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا امریکی حملہ ممکن ہے، صدر ٹرمپ کا اعلان
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد کے دنوں میں کیوبن حکومت نے عوامی حمایت کے مظاہروں، اندرونی سیاسی متحرکات اور سخت سیکیورٹی اقدامات کا سہارا لیا۔
ہفتے کے روز صدر میگوئل دیاز-کانیل نے ہوانا میں امریکی سفارت خانے کے باہر احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا وینزویلا کے ساتھ اپنے اتحاد کے دفاع کے لیے ’بہت بڑی قیمت‘ ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار
اگلے روز حکومت نے وینزویلا کے واقعات پر 2 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا، سرکاری ٹی وی نشریات میں اعلیٰ حکام نے ’مشترکہ وطن‘ اور تاریخی مزاحمت کے بیانیے کو اجاگر کیا۔
یہ بیانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کا جواب تھا جن میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ چاویزم کے اتحادیوں کو براہِ راست نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، صدر ٹرمپ نے کیوبا کے بارے میں کہا کہ کیوبا گرنے کے قریب ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پیر کے روز کیوبن حکام نے اہم تنصیبات پر نگرانی بڑھا دی اور ہنگامی اجلاس منعقد کیے۔ اسی دوران مختلف صوبوں میں طویل بجلی بندشوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا، جو توانائی کے نظام کی کمزوری کا واضح ثبوت ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وینزویلا کی امداد آنے والے ہفتوں میں ختم یا نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
کیوبا کا توانائی بحران بوسیدہ انفراسٹرکچر، طویل عرصے سے دیکھ بھال کی کمی اور ایندھن کی قلت کا نتیجہ ہے، بجلی کی زیادہ تر پیداوار پرانے تھرمو الیکٹرک پلانٹس پر منحصر ہے جو اکثر خرابیوں کے باعث بند رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی فورسز کی کمانڈو کارروائی، وینزویلا کے تیل بردار جہاز پر قبضے کی ویڈیو وائرل
متبادل صلاحیت محدود ہونے کے باعث ریاست کو تیرتے پاور پلانٹس اور ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جن کے لیے درآمدی ایندھن درکار ہے جو زرِمبادلہ کی کمی کے باعث حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
وینزویلا کے سابق پروسیکیوٹر زائر مندارائے کے مطابق، کیوبا دہائیوں تک مکمل طور پر وینزویلا کے تیل پر انحصار کرتا رہا، مگر 2014 کے بعد وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی کے زوال نے یہ سہارا توڑ دیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی بندشوں اور معاشی بحران میں اضافہ ہوا۔ ان کے بقول، اس خلا میں میکسیکو کی امداد سامنے آئی، اور 2023 کے بعد میکسیکو نے کیوبا کو کروڑوں ڈالر مالیت کا خام تیل اور ڈیزل فراہم کیا۔
Cuba’s economy is nearing collapse as the result of the U.S. oil blockade and military buildup against Venezuela https://t.co/peNoPlOx56
— The Wall Street Journal (@WSJ) December 25, 2025
ارجنٹینا کی یونیورسٹی آف بیونس آئرس کے ماہر معاشیات لیاندرو مورگن فیلڈ کے مطابق، وینزویلا میں امریکی مداخلت کا ایک مقصد کیوبا کو مزید تنہا کرنا ہے، ان کے بقول، امریکا مغربی نصف کرے کو اپنا خصوصی دائرہ اثر سمجھتا ہے اور اپنے مفادات کو خطرہ محسوس ہونے پر حکومتیں ہٹانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
’اس حکمتِ عملی کا مقصد وینزویلا ہی نہیں بلکہ کیوبا سمیت خطے کی مخالف حکومتوں کو سہارا دینے والے سیاسی و معاشی رشتوں کو توڑنا ہے۔‘
مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کے رہنما اسرائیل مخالف مؤقف کیوں اپناتے ہیں؟
مورگن فیلڈ کا کہنا تھا کہ ہوانا میں تشویش حقیقی اور گہری ہے، اگر وینزویلا میں مکمل نظامی تبدیلی آتی ہے تو اس کے کیوبا پر معاشی اور سیاسی اثرات نہایت شدید ہوں گے۔
دوسری جانب، کولمبیا کے سیاسی سائنس دان کرسچن آریاس بارونا کا کہنا ہے کہ کیوبا کے ماڈل کے فوری انہدام کی پیش گوئی قبل از وقت ہے، ان کے مطابق جب تک ڈیلسی روڈریگز اقتدار میں ہیں اور امریکی دباؤ میں مزید اضافہ نہیں ہوتا، کیوبا کو فوری طور پر کسی بڑے جھٹکے کا سامنا نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟
انہوں نے یاد دلایا کہ 1959 کے انقلاب کے بعد سے کیوبا نے مسلسل امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔
ماہرِ عمرانیات لوئیس وائنر بھی سمجھتے ہیں کہ حتمی منظرنامہ پیش کرنا ابھی جلد بازی ہوگی۔ اگرچہ بعض حلقے اس صورتحال کو 1990 کی دہائی کے ’خصوصی دور‘ کی واپسی سے جوڑ رہے ہیں، مگر کیوبا کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک نے خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے بقا کے تخلیقی راستے تلاش کیے ہیں، جن میں بین الاقوامی سیاحت، محدود تجارتی کھلے پن اور تذویراتی شراکت داریاں شامل ہیں۔














