وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار

اتوار 4 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی برادری نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ممالک، عالمی اداروں اور حکمرانوں نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی امن کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے شدید مزمت کی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

چین و روس نے فوجی آپریشن کی کھلی مذمت کی

چین نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے، اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور ملکی خودمختاری کا احترام کرے۔

روس نے بھی امریکی حملے کو نا قابل قبول اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر مسترد کیا، اور مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لاطینی امریکا کے ممالک کا ردعمل

برازیل کے صدر لوئز اِناسیو لُولا دا سلوا نے کہا کہ امریکہ کی کارروائی نے ’غیر قابل قبول حد‘ پار کر دی ہے اور یہ لاتینی امریکہ اور کیریبین میں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

میکسیکو نے بھی امریکی فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ نے میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی خبردار کر دیا

کولمبیا کے صدر گسٹاؤ پیٹرو نے پوچھا ہے کہ ایسی کارروائی سے لاطینی امریکا کی خودمختاری متاثر ہو گی اور یہ ایک انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے۔

کیوبا نے اس حملے کو ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ردِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

چلی کی حکومت نے بھی فوجی کارروائی کی تشویش اور مزمت کا اظہار کیا اور امن اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کا ردعمل

فرانس نے کہا ہے کہ امریکی آپریشن بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کوئی بھی پائیدار حل بیرون مداخلت سے نہیں آ سکتا۔

یورپی یونین نے بھی واقعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ یہ کارروائی خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے اور اس کا تعلق علاقائی امن و استحکام سے ہے۔ ایران نے بھی امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بین الاقوامی تبصرے اور خدشات

عالمی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا اور مذاکرات، ملٹی لیٹرلزم اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہی سیاسی بحرانوں کا حل ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدرِ وینزویلا کی گرفتاری: امریکا نے ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو حراست میں لیا؟

اسی تنازع پر امریکی داخلی اور خارجی سطح دونوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری نے زور دیا ہے کہ بحران کا حل امن، قانون اور خودمختاری کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟