امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ وینزویلا کی عارضی انتظامیہ امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کرے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ توانائی کے وزیر کرس رائٹ کو فوری طور پر اس منصوبے کو عملی شکل دینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تیل کو ذخیرہ کرنے والی شپوں کے ذریعے براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں آئندہ 30 دن میں انتخابات نہیں ہوں گے، صدر ٹرمپ
انہوں نے مزید کہا کہ اس رقم کا کنٹرول صدر کے طور پر خود سنبھالیں گے، لیکن اسے وینزویلا اور امریکا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس جمعہ کو آئل کمپنیز کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کرے گا، جس میں ایکسن، شیورون اور کونکو فِلپس کے نمائندگان شریک ہوں گے۔
وینزویلا دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر میں سے قریباً پانچواں حصہ رکھتا ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے تنبیہ کی کہ پیداوار میں فوری اضافہ انفراسٹرکچر، کم قیمتیں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
وینزویلا کی عارضی صدر ڈلسی روڈریگِز نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کا ان کے ملک پر حکومت نہیں، اور امریکی دعوے کے باوجود وہ مکمل خود مختار ہیں۔ وینزویلا حکومت ذمہ دار ہے اور کوئی غیر ملکی ایجنٹ حکومت نہیں کر رہا۔
مزید پڑھیں: کتنے فیصد امریکی وینزویلا کیخلاف صدر ٹرمپ کی کارروائی کے حامی نکلے؟
ٹرمپ کے دعوے کے بعد، وینزویلا کی فوج نے پہلے بار اپنے نقصان کی تصدیق کی اور 23 فوجی اہلکاروں، بشمول 5 جرنیلوں، کے ہلاک ہونے کی فہرست جاری کی۔ اس کے ساتھ ہی حلیف ملک کیوبا نے بھی 32 فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کی، جن میں 2 کرنل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل شامل ہیں۔













