امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وینزویلا مزید تیل نکالنا چاہتا ہے تو اسے روس، چین، ایران اور کیوبا کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات ختم کرنے ہوں گے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مطالبہ کیا ہے کہ وینزویلا کو صرف امریکا کے ساتھ تیل کی پیداوار میں شراکت کرنی چاہیے اور خام تیل کی فروخت میں امریکا کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کی رات ایک آپریشن کے دوران امریکی کمانڈوز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو اغوا کر لیا، جسے وینزویلا نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
The US authorities demand that Venezuela should sever economic ties with Iran, China, Cuba and Russia as a condition for increasing oil production, ABC News television channel reported:https://t.co/JpIiE8BfYZ pic.twitter.com/VN85KzBf0L
— TASS (@tassagency_en) January 7, 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل صنعت تک رسائی حاصل ہوگی، جسے انہوں نے مادورو کے سابقہ دورِ حکومت میں “ناانصافی سے قومی ملکیت” کہا تھا۔
منگل کو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’عبوری حکام‘ وینزویلا کے 30 سے 50 ملین بیرل تیل واشنگٹن کے کنٹرول کے تحت بیچنے کے لیے سپرد کریں گے۔
مزید پڑھیں امریکا نے وینزویلا پر حملہ کیوں کیا؟ حملے سے متعلق اہم تفصیلات:
وینزویلا کے عبوری صدر کا حلف اٹھانیوالی ڈیلسی روڈریگز نے اعلان کیا کہ نہ تو امریکا اور نہ ہی کوئی دوسرا ’غیر ملکی ایجنٹ‘ وینزویلا پر حکمرانی کرے گا۔
کاراکس میں حکام نے مادورو اور فلورس کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جو نیویارک کی عدالت میں منشیات اور ہتھیاروں سے متعلق عائد الزامات کی صحت سے انکار کرچکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے عوام کو آزادی دی، نئی حکومت آنے تک ملک ہم چلائیں گے، معزول صدر پر مقدمہ ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
وینزویلا کے پروسیکیوٹر جنرل طارق سعاب نے کہا ہے کہ اعلانِ جنگ یا اقوام متحدہ کی قرارداد کے بغیر امریکی فوجی آپریشن دہشت گردانہ نوعیت کی غیر قانونی مسلح جارحیت ہے۔
روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مادورو کے اغوا کو ’ایک ظالمانہ جرم‘ قرار دیا جبکہ چینی مندوب سن لی نے بھی امریکی فوجی مداخلت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن اور سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔














