پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈز کا سلسلہ جاری ہے، جہاں بدھ کو کاروبار کے ابتدائی لمحات میں 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 186 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
صبح 10 بج کر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 735.52 پوائنٹس یعنی 0.40 فیصد اضافے کے ساتھ 185,797.62 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں یہ تیزی اس ماہ کے آخر میں ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث دیکھنے میں آ رہی ہے۔
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی۔
https://Twitetr.com/investifypk/status/2008761783993934085
حبکو، ماری، پول، پی پی ایل، پاک اوس، ایس ایس جی سی، وافی، حبیب بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور مسلم کمرشل بینک سمیت انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے اہم حصص سبز نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔
منگل کو یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.28 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی اور اس نے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
گزشتہ روز یعنی منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ادارہ جاتی خریداری کے باعث مارکیٹ مضبوط بنیادوں پر بند ہوئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 2,653 پوائنٹس یا 1.45 فیصد اضافے کے ساتھ 185,062 پوائنٹس کی نئی تاریخی سطح پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر ایشیائی منڈیوں میں تیل کے مستقبل کے سودے سست روی کا شکار رہے، جبکہ وسائل سے وابستہ شیئرز میں بہتری دیکھی گئی۔
سرمایہ کار وینزویلا میں سیاسی بحران اور اس کے تیل کے ذخائر کے مستقبل کے اثرات کو جانچتے دکھائی دیے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ اس وقت جاری رہا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا 50 ملین بیرل تک تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کے لیے فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
جاپان کی اسٹاک مارکیٹ نے علاقائی منڈیوں پر دباؤ ڈالا، جبکہ صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کموڈٹی سے وابستہ شیئرز مجموعی طور پر بہتر رہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.25 فیصد نیچے آیا، جبکہ آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی، اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق کاراکاس اور واشنگٹن کے درمیان 2 ارب ڈالر مالیت کے وینزویلا کے خام تیل کی امریکا کو برآمد کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ادھر ٹوکیو میں حصص کی قیمتوں پر اس وقت دباؤ بڑھ گیا جب چین نے جاپان کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی دوہری نوعیت کی اشیا کی برآمد پر پابندی کا اعلان کیا، جو تائیوان سے متعلق جاپانی وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایشیا میں جاری کاروباری دن کے دوران اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ نومبر میں آسٹریلیا میں صارف قیمتوں میں اضافہ توقع سے کم رہا جبکہ بنیادی مہنگائی میں معمولی کمی آئی۔
جاپان میں نجی شعبے کے ایک سروے کے مطابق سروس سیکٹر کی ترقی مئی کے بعد سست ترین رفتار سے ہوئی۔













