چین کی جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر پابندی، ٹوکیو کا سخت ردِعمل

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جاپان نے دوہرے استعمال کی اشیا کی برآمدات پر چین کی جانب سے پابندی کو ’بالکل ناقابلِ قبول اور نہایت افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔

دوہری استعمال کی اشیا سے مراد وہ سامان، سافٹ ویئر یا ٹیکنالوجیز ہیں جو شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے قریب جاپانی میزائل یونٹ کی تنصیب پر چین کو شدید ردعمل، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ان اشیا میں بعض نایاب زمینی عناصر بھی شامل ہیں جو ڈرونز اور چپس بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

یہ تنازع گزشتہ سال کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب جاپان کی وزیرِ اعظم سانیے تاکائیچی نے کہا کہ جمہوری طرزِ حکومت والے تائیوان پر چین کا کوئی بھی حملہ جاپان کے لیے وجودی خطرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔

چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے، تاہم تائیوان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

بیجنگ نے تاکائیچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیان سے دستبردار ہوں، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: چین نے جاپان سے آبی مصنوعات کی درآمد روک دی

اس کے نتیجے میں جوابی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں تازہ ترین اقدام منگل کے روز فوجی استعمال کی دوہری اشیا کی برآمدات پر پابندی ہے۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری اور حکومت کے مرکزی ترجمان، مینورُو کیہارا نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس نوعیت کا چینی اقدام بین الاقوامی طریقۂ کار سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔

انہوں نے جاپانی صنعت پر ممکنہ اثرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کن اشیا کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ’یہ بالکل ناقابلِ قبول اور نہایت افسوسناک ہے۔‘

مزید پڑھیں:چین جزیرہ تائیوان پر روس کے تعاون سے حملہ ہوگا، امریکی میڈیا

بدھ کے روز جاپان کا نِکی شیئر انڈیکس تقریباً ایک فیصد گر گیا، جب کہ عالمی سطح پر امریکی اور یورپی منڈیوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بڑی دفاعی کمپنیوں، کاواساکی ہیوی اور مٹسوبشی ہیوی کے شیئرز تقریباً 3 فیصد تک گرنے والوں میں شامل تھے۔

کیا نایاب زمینی عناصر مزید پابندیوں کی زد پر آئیں گے؟

چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ ملکیت اخبار چائنا ڈیلی نے منگل کو رپورٹ کیا کہ بیجنگ جاپان کو نایاب زمینی عناصر کی برآمدات کے لائسنس کے جائزے کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کے جاپان کی طاقتور مینوفیکچرنگ صنعت، خاص طور پر آٹوموٹو سیکٹر، پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ جاپان نے 2010 میں چین کی جانب سے پابندیوں کے بعد نایاب زمینی عناصر کی سپلائی متنوع بنانے کی کوشش کی، تاہم اب بھی اس کی تقریباً 60 فیصد درآمدات چین سے آتی ہیں۔

نومورا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرِ معاشیات تاکاہیدے کیوچی کے مطابق، اگر چین 3 ماہ کے لیے نایاب زمینی عناصر کی برآمدات محدود کر دے تو جاپانی کاروبار کو تقریباً 4.21 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا

ان کے مطابق اس پابندی کے باعث سالانہ جی ڈی پی میں 0.11 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، ایک سالہ پابندی جی ڈی پی میں 0.43 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

ابھی تک چینی کسٹمز کے اعداد و شمار میں جاپان کو نایاب زمینی عناصر کی برآمدات میں کمی کے کوئی آثار نہیں ملے۔ نومبر میں، جو دستیاب تازہ ترین مہینہ ہے، برآمدات 35 فیصد بڑھ کر 305 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی بلند ترین سطح ہے۔

طویل کشیدگی کے خدشات

نومبر کے اوائل میں تائیوان سے متعلق بیان کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو جاپان کے سفر سے روک دیا، جاپانی سمندری غذا کی درآمدات معطل کر دیں اور متعدد ملاقاتیں اور ثقافتی تقریبات منسوخ کر دیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی جنگ میں عارضی مفاہمت اور آئندہ اپریل میں بیجنگ کے دورے کا ارادہ رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاکائیچی سے تنازع مزید نہ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا اور جاپان نے روس و چین کی مشترکہ فضائی گشت کے جواب میں لڑاکا طیارے روانہ کیے

تاہم، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس تنازع نے تاکائیچی کی ملکی مقبولیت کو متاثر نہیں کیا۔

ماہرین اس کشیدگی کا موازنہ 2012 کے اس تنازع سے کر رہے ہیں جب جاپان نے متنازع جزائر کو قومی تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد چین میں جاپان مخالف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور دونوں ممالک کے رہنما ڈھائی سال تک نہیں ملے تھے۔

ایتوچو کارپوریشن کے صدر کیتا ایشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ معاملہ کافی عرصے تک چلتا رہے گا۔ ’صدر شی جن پنگ کچھ ناراض دکھائی دیتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟