یورپی یونین اور بنگلہ دیش نے سیاسی، معاشی اور ترقیاتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے جامع شراکت داری و تعاون معاہدے (پی سی اے) کی جانب اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ڈھاکا کے دورے کے دوران بتایا کہ اس معاہدے پر مذاکرات جلد حتمی مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔
ایشیا پیسفک کے لیے یورپی خارجہ سروس کی قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر پاؤلا پامپالونی نے بدھ کے روز اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات اور ریفرنڈم، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، اور یورپی یونین و بنگلہ دیش کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور یورپی یونین کا باہمی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق
پاؤلا پامپالونی نے کہا کہ پی سی اے پر باضابطہ مذاکرات، جو نومبر 2024 میں شروع ہوئے تھے، نمایاں طور پر آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ حکمرانی، سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تعاون کے دروازے کھول سکتا ہے۔ انہوں نے عبوری حکومت کی جانب سے گزشتہ سال اگست کے بعد کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کو قابلِ تعریف قرار دیا اور کہا کہ سیاسی استحکام اور پُرامن انتقالِ اقتدار یورپ کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے تصدیق کی کہ برسلز بنگلہ دیش میں اعلیٰ سطحی انتخابی مبصر مشن تعینات کرے گا، جس کے سربراہ جلد ڈھاکا پہنچ کر سیاسی جماعتوں اور حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازوں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا
چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ پی سی اے معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے آزاد، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سیاسی جماعتیں عبوری روڈ میپ کی حمایت کر چکی ہیں۔
ملاقات میں خصوصی ایلچی لطفی صدیقی، ایس ڈی جی کوآرڈینیٹر لامیہ مرشد اور یورپی سفیر مائیکل ملر بھی موجود تھے۔














