کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کتوں کو مارنے کی حمایت کی ہے اور نس بندی یعنی نیوٹرنگ کے عمل کو سست اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
میئر کراچی کے مطابق شہر میں صرف سال 2026 کے ابتدائی 5 دنوں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 800 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں آوارہ کتوں کے خلاف سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی کارروائیاں تیز
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے لیے آوارہ کتوں کو مارنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوٹرنگ میں وقت لگتا ہے جبکہ شہر میں ڈاگ بائٹ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک چھوٹا سا گروہ آوارہ کتوں کو مارنے کی مخالفت کرتا ہے اور بار بار عدالتوں سے حکمِ امتناع حاصل کر لیتا ہے، جس کے باعث مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا۔ میئر کراچی کے مطابق عوام کی اکثریت فوری کارروائی کی حامی ہے اور اس مسئلے کا حتمی حل چاہتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال کے ابتدائی 5 دنوں میں کراچی میں تقریباً کتوں کے کاٹنے کے 850 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں انڈس اسپتال اور سول اسپتال میں 300، 300 جبکہ جناح اسپتال میں 250 سے زائد کیسز سامنے آئے۔
انڈس اسپتال کے ڈاگ بائٹ کلینک کے انچارج ڈاکٹر آفتاب گوہر نے بتایا کہ ایک 41 سالہ شخص کو آوارہ کتے کے کاٹنے سے شدید انفیکشن اور خون کی روانی متاثر ہونے کے باعث انگلی کاٹنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کیسز کورنگی، حب چوکی، بلدیہ ٹاؤن، لانڈھی اور گڈاپ ٹاؤن سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ کا باؤلے کتوں کو تلف کرنے کا حکم
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے میئر کراچی کو آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات، کھلے مین ہولز اور سیوریج سے ہونے والی اموات پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بھی دہائیوں تک کراچی کو نقصان پہنچایا اور دونوں طرف سے کھیلنے کی سیاست کی۔
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ جیکب آباد سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا آوارہ کتے کے کاٹنے کے 2 ماہ بعد انڈس اسپتال میں ریبیز کے باعث جاں بحق ہو گیا تھا۔ 24 دسمبر 2025 کو رپورٹ ہونے والی اس ہلاکت کے بعد سندھ میں گزشتہ سال ریبیز سے جاں بحق افراد کی تعداد 21 سے تجاوز کر گئی ہے۔














