کراچی کی برتن گلی جہاں ہنر کو اگلی نسل تک منتقل کرنا رک چکا

جمعرات 8 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں مصالحوں کی خوشبو آتی ہے، وہیں ایک خاص گلی ایسی ہے جہاں کانوں میں دھات کے ٹکرانے کی آوازیں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اسٹیل، تانبے اور پیتل کی چمک استقبال کرتی ہے۔

یہ کراچی کی مشہور برتن مارکیٹ ہے، جو دہائیوں سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ اور بلوچستان کی ضروریات پوری کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: خشک سالی میں امید کی کرن: بلوچستان میں روایتی ہنر سے پانی کی تلاش

اس گلی کی تاریخ قیامِ پاکستان سے بھی پرانی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق یہ علاقہ ہندو تاجروں کا گڑھ تھا جو تانبے اور پیتل کے بھاری برتنوں کا کاروبار کرتے تھے۔ اس وقت ہاتھ سے بنے ہوئے منقش برتنوں کا رواج تھا۔

ہجرت کرکے آنے والے مسلمان کاریگروں اور تاجروں نے یہاں ڈیرے جمائے۔ دلی اور مراد آباد (بھارت) سے آنے والے کاریگر اپنے ساتھ برتن سازی کا ہنر لائے۔

1980 کی دہائی تک یہاں پیتل اور تانبے کا راج تھا، لیکن وقت کے ساتھ مہنگائی اور دیکھ بھال کی مشکل کی وجہ سے اسٹین لیس اسٹیل اور اب نان اسٹک اور پلاسٹک نے جگہ لے لی ہے۔

60 برس سے اس مارکیٹ میں کام کرنے والے غلام محمد کا کہنا ہے کہ پہلے شادی بیاہ میں پورا جہیز پیتل کا دیا جاتا تھا، گاہک کو چیز کی کوالٹی کی پہچان تھی۔ اب گاہک صرف سستی اشیا مانگتا ہے۔ چین کے سامان نے ہماری مقامی صنعت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کام سیکھا مگر اب ان کی اولاد اس کام میں دلچسپی نہیں رکھتی کیونکہ منافع کم اور مقابلہ سخت ہے۔

غلام محمد کے مطابق وہ کاریگر جو پرانے برتنوں کو چمکاتے تھے یا ان پر قلعی کرتے تھے، اب ناپید ہو رہے ہیں۔ برتنوں کو پالش کرنے والے مزدور اکثر سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ دھات کا باریک ذرہ ان کے اندر تک چلا جاتا ہے۔

’صبح سے شام تک ہتھوڑا چلانے اور بھٹی کے سامنے بیٹھنے والے کاریگر کی دیہاڑی بمشکل اتنی بنتی ہے کہ وہ اپنے گھر کا راشن پورا کر سکے۔‘

مزید پڑھیں: وادی نیلم کا ہنر: لکڑی کی تراشی ہوئی مصنوعات جو دنیا بھر میں مقبول ہیں

مارکیٹ میں 60 سے 70 فیصد سامان چین کا ہے جو دکھنے میں خوبصورت لیکن پائیداری میں کم ہوتا ہے۔ لوہے اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے نے مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس کو بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

گاہکوں کے لیے یہاں آنا ایک امتحان ہے، کیونکہ گلیاں تنگ ہیں اور پارکنگ کا کوئی انتظام نہیں، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا