امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا کو 66 بین الاقوامی اور عالمی تنظیموں سے الگ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکی خودمختاری، قومی مفادات اور معاشی خوشحالی کا تحفظ ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ مذکورہ عالمی تنظیمیں امریکی مفادات کے بجائے اپنے علیحدہ ایجنڈے کو فروغ دے رہی تھیں، جس کے باعث نہ صرف امریکی وسائل ضائع ہو رہے تھے بلکہ ان اداروں کی پالیسیوں سے امریکا کی خود مختاری کو بھی خطرات لاحق تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھاری فنڈنگ کے باوجود ان تنظیموں سے امریکا کو خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تھا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا تیل کی کمائی سے صرف امریکی مصنوعات خریدے گا، ٹرمپ کا اعلان
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اقوام متحدہ سے منسلک متعدد اداروں سمیت مختلف عالمی فورمز، معاہدوں اور پروگرامز سے امریکی شمولیت اور مالی معاونت ختم کر دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان تنظیموں کے ایجنڈے اکثر ماحولیاتی پابندیوں، سماجی پالیسیوں اور عالمی گورننس جیسے معاملات پر مشتمل تھے جو امریکی ترجیحات سے متصادم ہیں۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی اُس خارجہ پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت امریکا اس سے قبل بھی پیرس ماحولیاتی معاہدے، عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل جیسے اہم عالمی اداروں سے دستبردار ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بیرونی اداروں کے بجائے ملکی ترقی، سلامتی اور عوامی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب عالمی مبصرین اور ماہرین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر امریکا کا اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی تعاون کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی، صحت اور انسانی ترقی جیسے عالمی چیلنجز کے شعبوں میں۔














