وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود صوبائی حکومت عوام کی خدمت میں مصروف ہے جس پر میں وزیراعلیٰ اور یہاں کے سیاسی زعما کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دیں، جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوتا آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان مہاجرین کے لیے ہمیشہ خوش آمدید کہنے والا صوبہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مئی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں افواج پاکستان نے انڈیا کو تاریخی سبق سکھایا جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ ترتیب دیتے ہوئے اسلم رئیسانی کا مطالبہ تھا کہ ہمارے وسائل 100 فیصد بڑھائے جائیں ورنہ ہم اس پر دستخط نہیں کریں گے، ان کا مطالبہ جائز تھا اور اسے پورا کرنے کے لیے پنجاب نے سبقت لی اور اپنے حصے سے 11 ارب روپے سالانہ دیے، مجھے اس پر خوشی ہے، خاندان کی بات آتی ہے تو حصہ نہیں ہوتا، مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان ضلعی انتظامیہ کو پولیس اختیارات دینے کا تنازعہ، حکومت سنبھال سکے گی؟
انہوں نے کہا کہ آج کراچی-چمن روڈ کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جسے یہاں خونی روڈ کہا جاتا ہے، یہ 300 ارب روپے کا منصوبہ ہے جسے وفاق مکمل کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے سے 18 گھنٹے کا سفر 8 گھنٹے میں مکمل ہوگا اور پہلے کی طرح حادثے نہیں ہوں گے، اسی طرح بلوچستان میں ایک ساتھ 5 دانش اسکول بھی بنا رہے ہیں۔











