یورپی یونین (EU) بنگلہ دیش میں آئندہ قومی انتخابات اور ریفرنڈم کی نگرانی کے لیے قریباً 200 مبصرین تعینات کرے گی تاکہ انتخابی عمل کو آزاد، منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکے۔
یورپی یونین کے الیکشن آبزرویشن مشن کے سربراہ اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن، ایوارس ایجابس نے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یورپی یونین کے مبصرین ووٹر رجسٹریشن، پولنگ کے طریقہ کار اور بیلٹ کی ساکھ سمیت انتخابی عمل کے تمام مراحل کا جائزہ لیں گے۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں
انہوں نے کہا کہ 12 فروری کو مختصر مدت کے مبصرین بھی تعینات کیے جائیں گے جبکہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین پر مشتمل ایک علیحدہ وفد بھی بنگلہ دیش میں موجود ہوگا۔ ان کے مطابق، یورپی یونین بنگلہ دیش کو ایک اہم شراکت دار سمجھتی ہے اور مشن غیرجانبدار انداز میں انتخابی عمل کا مشاہدہ کرے گا۔
ایوارس ایجابس نے بتایا کہ مشن انتخابی عمل کے اختتام تک کام کرے گا اور بعد ازاں ایک جامع حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا بنگلہ دیش کا ابتدائی دورہ ہے جس کا مقصد انتخابی عمل سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مشن پر طویل المدتی مبصرین مشتمل ہیں، جبکہ انتخابات کے قریب مختصر المدتی مبصرین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشن صرف ڈھاکا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی انتخابی عمل کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان جامع شراکت داری معاہدے پر اہم پیشرفت
چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی، جن میں بیک وقت پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کا انعقاد بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے تاہم امید ہے کہ الیکشن کمیشن اسے مؤثر انداز میں سنبھالے گا۔
یورپی یونین کے مشن چیف نے بنگلہ دیش کو ایک متنوع اور جمہوری معاشرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس انتخابی عمل کے مشاہدے کے منتظر ہیں، خاص طور پر اگست 2024 کے واقعات کے تناظر میں یہ انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔













