پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کی نیلامی کا عمل کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد ملتان سلطانز کی ممکنہ نیلامی سے متعلق بھی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی تھیں۔ اس حوالے سے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک باقاعدہ چیلنج قبول کیا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا اور مسلسل تنقید ہو رہی تھی کہ ملتان سلطانز نقصان میں چلنے والا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنچائز کی پوری ٹیم نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ عملی طور پر ثابت کریں گے کہ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے، اس کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جائے گا اور اس کے بعد نیلامی کا مرحلہ آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت، قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کیا پیغام دیا؟
ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملتان سلطانز کو فروخت کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ اس سیزن میں ٹیم کو خود چلایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ فرنچائز کی پوری ٹیم باہمی مشاورت سے کرے گی لیکن وہ ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ ملتان سلطانز کو کم از کم ایک سال مزید چلایا جائے تاکہ اسے منافع میں لا کر چھوڑا جا سکے اور عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ ایک مثبت اور منافع بخش کاروبار ہے۔
دوسری جانب ملتان سلطانز سے متعلق سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ٹیم کو نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کے لیے سماجی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے دباؤ موجود تھا کیونکہ دو سے تین سرمایہ کار گروپس نے فرنچائز کے لیے 182 کروڑ روپے تک بولی دینے میں گہری دلچسپی ظاہر کی تھی۔ تاہم محسن نقوی اور سلمان نصیر نے ملتان سلطانز کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
Breaking news on Multan Sultans: there was pressure to sell it today on auction socially when 2-3 parties more wanted to pay upto 182CR.
However @MohsinnaqviC42 @salnaseer decided not to sell as a challenge to show those who said it’s not profitable business and kept crying for… pic.twitter.com/75Wgx6CQ62
— Syed Majeed (@Cricket_Plus_US) January 8, 2026
واضح رہے کہ نئی ٹیموں (ٹیم حیدرآباد اور ٹیم سیالکوٹ) کی شمولیت کے بعد پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہوگئی ہے۔ اس سے قبل آخری فرنچائز 2018 میں فروخت کی گئی تھی، جب ملتان سلطانز لیگ کا حصہ بنی تھی۔














