گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹرمپ انتظامیہ مبینہ طور پر گرین لینڈ کے ہر رہائشی کو بھاری رقم کی پیشکش پر غور کر رہی ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کرنے اور ممکنہ طور پر امریکا کا حصہ بننے پر آمادہ کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈنمارک نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر آرکٹک میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام کسی علاقے پر حملہ ہوا تو اس کے فوجی کمانڈرز کے احکامات کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر فائر کھول دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پہلے گولی بعد میں بات‘، ڈنمارک کی امریکا کو سخت وارننگ

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے گرین لینڈ کے باشندوں کو فی کس 10 ہزار سے 1 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس تجویز کو 57 ہزار آبادی پر مشتمل اس جزیرے کو ’خریدنے‘ کی ایک ممکنہ صورت قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ کوپن ہیگن اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک کی حکومتیں واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس میں زیرِ غور منصوبوں میں فوجی آپشن بھی شامل ہے، تاہم ماہرین کے مطابق براہِ راست رقم کی پیشکش ایک حساس اور تضحیک آمیز اقدام تصور کی جا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے عوام کے لیے جو طویل عرصے سے اپنی آزادی اور ڈنمارک پر معاشی انحصار کے بارے میں بحث کرتے آ رہے ہیں۔

ڈنمارک کی سخت وارننگ

ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ 1952 کے قواعد کار کے تحت اس کے فوجیوں کو حکم ہے کہ کسی بھی حملہ آور پر فوری حملہ کریں اور بعد میں سوالات پوچھیں۔

وزارت نے کہا کہ یہ ہدایت تاحال نافذ العمل ہے۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے

یہ بیان ایسے وقت دیا گیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’فوجی طاقت‘ بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس-فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا، الحاق کے خواب دیکھنا بند کیے جائیں۔

گرین لینڈ سے ٹرمپ کی دلچسپی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ گرین لینڈ اسٹریٹجک اور قومی سلامتی کے لحاظ سے امریکا کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر وہاں موجود قیمتی معدنی وسائل کے باعث جو جدید عسکری ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے انہیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔

’ڈنمارک یہ ذمہ داری نبھا نہیں سکتا۔ یہ علاقہ بے حد اسٹریٹجک ہے۔‘

مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے

صدر ٹرمپ کے مشیروں میں گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے غور و فکر ان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں خاص طور پر وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں فی کس ایک لاکھ ڈالر تک ادائیگی کی تجویز کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 6 ارب ڈالر بن سکتی ہے۔

آزادانہ معاہدے کا آپشن

وائٹ ہاؤس میں زیرِ غور ایک اور آپشن ’کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن‘ معاہدہ ہے، جیسا کہ امریکا نے ماضی میں مائکرونیشیا، مارشل آئی لینڈز اور پلاؤ کے ساتھ کیا تھا۔

اس قسم کے معاہدے کے تحت امریکا ضروری خدمات اور فوجی تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ بدلے میں اسے دفاعی اور تجارتی سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے لیے گرین لینڈ کو پہلے ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب

اگرچہ عوامی سروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کے اکثر باشندے آزادی کے خواہاں ہیں، مگر معاشی خدشات کے باعث اب تک آزادی پر ریفرنڈم کرانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگرچہ گرین لینڈ کے لوگ ڈنمارک سے علیحدگی کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، لیکن وہ امریکا کا حصہ بننے کے خواہشمند نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘