فرانس اور جرمنی سمیت امریکا کے یورپی اتحادی اس امکان پر قریبی مشاورت کر رہے ہیں کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی پر عمل کیا تو اس کا مشترکہ ردِعمل کیا ہوگا۔
رائٹرز کی خبر کے مطابق اگر امریکا نے اپنے دیرینہ اتحادی ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے گرین لینڈ پر فوجی قبضہ کیا تو اس کے نتیجے میں نیٹو اتحاد کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی حکمت عملی میں روس کے لیے نرم مؤقف، یورپی ممالک میں تشویش بڑھ گئی
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بیرو نے کہا ہے کہ اس معاملے پر جرمنی اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کوئی بھی قدم اکیلے نہیں بلکہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اٹھانا چاہتا ہے۔
یورپ کی بڑی طاقتوں اور کینیڈا نے بھی اس ہفتے گرین لینڈ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جزیرہ اس کے عوام کا ہے۔ یہ ردِعمل صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں، جس کا اظہار وہ 2019 میں بھی کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ امریکی فوجی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ڈنمارک اس کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ ڈنمارک نے روسی اور چینی بحری جہازوں کی موجودگی کے امریکی دعوؤں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں۔













