ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے اپنے اے آئی ٹول گروک کے ذریعے تصاویر میں ترمیم کی سہولت صرف ادا شدہ صارفین تک محدود کر دی ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گروک پر رضامندی کے بغیر افراد کی تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر برہنہ یا جنسی انداز میں تبدیل کرنے پر شدید تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا
نئی پابندی کے بعد جب کوئی صارف ایسی تصویر سازی یا ایڈیٹنگ کی کوشش کرتا ہے تو گروک آگاہ کرتا ہے کہ یہ فیچرز صرف ادا شدہ سبسکرائبرز کے لیے دستیاب ہیں، جس کے لیے صارف کا نام اور ادائیگی کی تفصیلات رجسٹر ہونا ضروری ہیں۔
تاہم غیر ادا شدہ صارفین گروک کی علیحدہ ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے عمومی نوعیت کی امیج ایڈیٹنگ اب بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ اقدام حکومتی انتباہات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جن میں ریگولیٹر آف کام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ پلیٹ فارم پر غیر قانونی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے خلاف کارروائی کرے، حتیٰ کہ ممکنہ پابندی پر بھی غور کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس اے آئی میں ڈاؤن سائزنگ، 500 سے زیادہ ملازمین نوکری سے فارغ
گروک ایک مفت ٹول کے طور پر ایکس پر پوسٹس یا جوابات میں ٹیگ کیا جا سکتا تھا اور ابتدا میں اسے عام اے آئی معاونت کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، مگر بعد ازاں اس کے ذریعے ایسی ایڈیٹس بھی ممکن ہو گئیں جن میں افراد کے کپڑے ہٹانا یا خواتین کی تصاویر کو بیکنی یا نامناسب لباس میں تبدیل کرنا شامل تھا۔
جمعے کے روز ایکس پر تصاویر میں ترمیم کرنے کی کوشش کرنے والے صارفین کو بتایا گیا کہ امیج جنریشن اور ایڈیٹنگ اس وقت صرف ادا شدہ سبسکرائبرز کے لیے محدود ہے۔
بعض پوسٹس کے مطابق صرف بلیو ٹک رکھنے والے، یعنی ادا شدہ تصدیق یافتہ صارفین ہی ایسی درخواستیں کامیابی سے کر پا رہے تھے۔














