ناسا نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود 4 رکنی عملے میں سے ایک کو سنگین طبی مسئلہ لاحق ہونے پر مشن کو طے شدہ وقت سے تقریباً ایک ماہ قبل زمین پر واپس لایا جائے گا۔
امریکی خلائی ادارے کے مطابق متاثرہ خلا باز کی حالت مستحکم ہے، تاہم طبی رازداری کے پیش نظر نہ تو اس خلا باز کی شناخت ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی بیماری کی نوعیت بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خلا بازوں نے ریاضی میں حیران کن دریافت کرلی، یہ زمین پر کیوں ناممکن تھی؟
یہ فیصلہ جمعرات کو ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین اور دیگر حکام نے اعلان کیا۔ ناسا کے ایک عہدیدار نے واضح کیا کہ یہ ہنگامی انخلا نہیں ہے، تاہم خلا بازوں کی صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
اس سے قبل ناسا نے جمعرات کو طے شدہ اسپیس واک بھی منسوخ کر دی تھی، جس کی وجہ طبی تشویش بتائی گئی۔ بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ یہ مسئلہ خلائی سرگرمیوں سے متعلق نہیں تھا اور نہ ہی کسی چوٹ کا نتیجہ تھا۔ عملے کی واپسی کے حتمی شیڈول سے متعلق 48 گھنٹوں میں مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی تاریخ میں کسی مشن کو طبی وجوہات کی بنیاد پر قبل از وقت ختم کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آئی ایس ایس سن 2000 سے مسلسل آباد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کا تاریخی اعلان، پاکستانی خلا بازوں کی چینی خلائی مشن میں شمولیت اور تربیت کا اعلان
کریو 11 میں ناسا کے خلا باز زینا کارڈمین اور مائیک فنکے، جاپانی خلائی ادارے جاکسا کے خلا باز کیمیا یوئی، اور روسی خلا باز اولیگ پلاٹونوف شامل ہیں۔ ان میں سے ایک امریکی خلا باز آئی ایس ایس پر 2 روسی خلا بازوں کے ساتھ موجود رہے گا۔
ناسا کے چیف ہیلتھ اینڈ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیمز پولک نے بتایا کہ ادارے کی 65 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مشن کو طبی بنیاد پر جلد واپس بلایا جا رہا ہے۔














