1960 سے 2026 تک: اسلام آباد کے درخت اور ترقیاتی منصوبوں کے اثرات

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کبھی اپنے سرسبز پہاڑی مناظر اور قدرتی جنگلات کے لیے مشہور اسلام آباد آج ماحولیاتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟

حالیہ برسوں میں شہر اور گرد و نواح میں درختوں کی کٹائی تیزی سے بڑھی ہے جس پر سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ پودے ماحول دوست نہیں اور شہری صحت کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اس کٹائی کے اثرات نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ بارشوں کے معمولات اور شہری زندگی پر بھی براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔

اس سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ پودے یہاں کب، کیسے اور کس مقصد کے لیے لگائے گئے تھے اور آج انہیں ختم کرنا کس حد تک درست یا مؤثر ہے۔

وی نیوز نے چند ماہرین سے بات کرکے ان درختوں کے لگائے جانے اور اب حالیہ مسئلے کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی منصوبہ بندی سنہ 1960 میں کی گئی جب اسے پاکستان کا نیا دارالحکومت نامزد کیا گیا۔

 اس مقصد کے لیے یونانی اربن پلانر کونسٹنٹینوس اے ڈوکسی ایڈس اور ان کی ٹیم نے اسلام آباد کا ماسٹر پلان تیار کیا جبکہ اس پر عمل درآمد کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں پرانے درخت اکھاڑ کر پام کے درخت لگانے پر صارفین برہم، ویڈیو وائرل

یاد رہے کہ ماسٹر پلان کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ اسلام آباد کے کم از کم 25 فیصد رقبے کو سبز رکھا جائے جس میں پارکس، گرین بیلٹس اور منظم لینڈ اسکیپنگ شامل تھی۔

 اس ماسٹر پلان کے تحت شہر کی تعمیر سے پہلے علاقہ پوٹھوہار سطح مرتفع کا حصہ تھا جو زیادہ تر بنجر زمین پر مشتمل تھا جہاں قدرتی جنگلات کم تھے اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے زیادہ تر جھاڑیاں اور ثانوی نباتات پائی جاتی تھیں۔ قدرتی طور پر یہاں ٹراپیکل سدا بہار چوڑے پتوں والے جنگلات، سب ٹراپیکل سدا بہار کانفرس جنگلات اور پت جھاڑ چوڑے پتوں والے جنگلات موجود تھے لیکن سنہ 1960 کی دہائی سے پہلے یہ علاقہ بکھری ہوئی آبادی اور خانہ بدوشوں کا مسکن تھا۔

 ماسٹر پلان کے نفاذ کے ساتھ سی ڈی اے نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں لاکھوں درخت لگائے، جن میں پائن، بوہینیا ویریگیٹا اور بوٹل برش شامل تھے،

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا

اس حوالے سے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ماحولیاتی ماہر سید حسنین رضا نے بتایا کہ اسلام آباد کو خود پلاننگ کے تحت راولپنڈی سے مختلف اور ایک جدید، سرسبز دارالحکومت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا اور اس مقصد کے تحت شہر کے جنوبی حصے، خصوصاً مارگلہ ہلز کے دامن میں باقاعدہ شجرکاری اور لینڈ اسکیپنگ کی گئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس خطے میں اسلام آباد بننے سے پہلے بھی قدرتی ایکو سسٹم موجود تھا جہاں بری امام، سیدپور اور دیگر فٹ ہل دیہات آباد تھے اور 60 سے زائد قدرتی پانی کے چشمے بہتے تھے جن میں مچھلیاں اور دیگر آبی حیات پائی جاتی تھی۔

سید حسنین رضا نے کہا کہ ابتدائی شجرکاری میں مختلف اقسام کے درخت لگائے گئے جن کا مقصد کم پانی میں تیزی سے بڑھنا اور شہر کو سبز و شاداب دکھانا تھا مگر ان میں کئی غیر مقامی اور مضر اقسام بشمول یوکلپٹس، پیپر ملبری، گل مہر، بوٹل برش اور کرنڈا بھی شامل ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں یہ تسلیم کیا گیا کہ ان درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری ایک ماحولیاتی غلطی تھی کیونکہ یہ زیرِ زمین پانی کم کرتے، مقامی نباتات کو نقصان پہنچاتے اور الرجی جیسے مسائل پیدا کرتے جس کے بعد کچھ علاقوں میں انہیں مرحلہ وار ہٹایا بھی گیا۔

سید حسنین رضا نے واضح کیا کہ مارگلہ ہلز کو اسلام آباد کی شجرکاری کی کامیابی کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے کیونکہ مارگلہ ہلز ایک قدرتی جنگلاتی علاقہ ہے جو ہمالیائی فٹ ہلز کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اگلے سال اسلام آباد میں 2025 کے مقابلے میں دوگنا زیادہ منصوبوں کا افتتاح کریں گے، محسن نقوی

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگل صدیوں سے قدرتی طور پر موجود ہے جہاں درخت، جنگلی حیات اور مکمل ایکو سسٹم بغیر انسانی مداخلت کے پروان چڑھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قدرتی جنگلات کو شہری شجرکاری کے کھاتے میں ڈال کر اسلام آباد کے گرین کور کے اعداد و شمار بڑھانا سائنسی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔

ان کے مطابق اسلام آباد کے ابتدائی سیکٹرز، جیسے جی اور ایف سیریز، میں گرین بیلٹس اور بڑے پارکس موجود ہیں جن میں ایف 9 پارک نمایاں مثال ہے جسے نیویارک کے سینٹرل پارک کے تصور پر ڈیزائن کیا گیا۔ تاہم شہر کے نئے سیکٹرز جیسے  جی 11، جی 12، ڈی 12 اور B سیریز میں وہ سبز منصوبہ بندی نظر نہیں آتی جو ماسٹر پلان کا حصہ تھی۔

سید حسنین رضا کے مطابق اسلام آباد میں جنگلات اور گرین بیلٹس کو نقصان صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ ایندھن کی ضرورت کے باعث بھی پہنچا۔ مارگلہ کے اطراف دیہی علاقوں میں آج بھی لکڑی بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں جھاڑیاں، گرے ہوئے درخت اور بعض اوقات مکمل درخت کاٹے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس عمل پر مؤثر نگرانی اور متبادل توانائی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث جنگلات مسلسل دباؤ میں رہے۔ ترقیاتی منصوبوں جیسے میٹرو بس توسیع (2014 میں شروع)، راول ڈیم انٹرچینج، ہاؤسنگ سوسائٹیز، کمرشل مارکیٹس، روڈز اور پارکنگ لاٹس نے بھی درختوں کو متاثر کیا جس سے گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں کی تعداد میں بالغ درخت کاٹے گئے اور ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 سے سنہ 2024 تک 14 ہیکٹر درختوں کا احاطہ ختم ہوا۔

مزید پڑھیں: 15 برس میں اسلام آباد سے 600 فیصد جنگلات کاٹے جا چکے، فواد سہیل کا انکشاف

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس تاثر کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ ماحولیاتی مسائل کا حل اندھا دھند درختوں کی کٹائی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بالغ جنگل میں بلینکٹ کٹنگ یا کلین سویپ ماحولیاتی تباہی کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق درست طریقہ یہ ہے کہ ماہر ایکولوجسٹس اور فارسٹرز کی نگرانی میں غیر مقامی اقسام کو مرحلہ وار نکالا جائے اور مقامی درخت شدید سردی اور خشک موسم میں کی بجائے مناسب شجرکاری کے موسم میں لگائے جائیں۔

 سید حسنین رضا کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی بگڑتی ہوئی فضائی آلودگی کا اصل سبب صرف درخت نہیں بلکہ ٹریفک، صنعتی دھواں اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کیے بغیر درختوں کو قربانی کا سبب بنانا مسئلے کا حل نہیں اور اسلام آباد کو واقعی سبز اور پائیدار دارالحکومت بنانے کے لیے اصل ماسٹر پلان، مقامی ایکو سسٹم اور سائنسی ماحولیاتی اصولوں کی طرف واپس جانا ناگزیر ہے۔

ماحولیاتی ماہر محمد عثمان کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ شکرپڑیاں، پارک روڈ اور ایچ 8 کے مختلف علاقوں میں تقریباً 29,115 درخت جنوری 2026 میں ہٹائے گئے جن میں زیادہ تر جنگلی شہتوت (پیپر ملبری) کے درخت شامل تھے۔

سی ڈی اے کے مطابق یہ اقدام شہر میں پولن الرجی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا اور ہر ہٹائے گئے درخت کے بدلے 3 نئے درخت لگانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کٹائی میں F-9 پارک سے 12,800 درخت، شکرپڑیاں سے 8,700 درخت، جی 10، جی 11 ، ایف 10، ایف 11، ڈی12  اور سرینگر ہائی وے سے 2,965 درخت، G-8 سے 1,405، جی 9 سے 839، ایف 8 سے 490، ایچ 8 سے 1,142 اور ایچ9  سے 534 درخت شامل تھے۔ تاہم، شہریوں اور ماحولیات دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیپر ملبری کے علاوہ دیگر اقسام جیسے شیشم بھی کاٹے گئے جو سپریم کورٹ کے سنہ 2023 کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

محمد عثمان نے کہا کہ گرچہ سی ڈی اے نے نئے درخت لگانے کا وعدہ کیا ہے مگر بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے شہر کے ماحولیاتی توازن پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ، اب اسلام آباد کا نظام کیسے چلے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری کے اثرات صرف تعداد سے نہیں بلکہ درختوں کی عمر، نوعیت اور محل وقوع سے بھی وابستہ ہوتے ہیں اس لیے ہمیں طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2017 اور سال 2024–2025 میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل ہے۔ سنہ 2017 میں Ataturk Avenue (Embassy Road) پر تقریباً 190–200 بڑے درختوں کی کٹائی کی گئی تھی۔ جبکہ 2024 میں ایف 9 پارک میں تقریباً 7,000 درخت کاٹے گئے جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا تھا۔

سنہ 2025 میں CDA نے شہر بھر سے جنگلی شہتوت کے درخت نکالنے کا پروگرام شروع کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد سے پولن کے خاتمے کے لیے سی ڈی اے کا اہم فیصلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے اور شجرکاری کے متبادل پروگراموں کو حقیقی اور مؤثر بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے