اسلام آباد سے پولن کے خاتمے کے لیے سی ڈی اے کا اہم فیصلہ

بدھ 25 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شہر بھر میں پیپر ملبری کے درختوں کے خاتمے اور ان کی جگہ ماحول دوست پودے لگانے کا ایک جامع اور مرحلہ وار منصوبہ مرتب کیا ہے، یہ اقدام شہری صحت کے تحفظ، فضائی آلودگی میں کمی اور مقامی ماحولیاتی نظام کی بہتری کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

سی ڈی اے ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ عرفان نیازی کے مطابق پیپر ملبری کے درختوں کو ختم کرنے کا عمل 2 مرحلوں پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں ان درختوں کو جڑوں سمیت اکھاڑا جا رہا ہے تاکہ دوبارہ اگنے کا امکان ختم ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں الرجی پیدا کرنے والے پولن کی مقدار میں اضافہ

’اس مقصد کے تحت شہر کے مختلف سیکٹرز بشمول ایف 8، جی 8، جی 9، جی 10، جی 11، ایف 10، ایف 11، ڈی 12، زیرو پوائنٹ اور سرینگر ہائی وے کے علاقوں میں درختوں کی کٹائی جاری ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پروٹیکشن اسٹاف کی رپورٹ کے مطابق کل 5,715 درختوں کی کٹائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ہر سیکٹر میں درختوں کی کٹائی کے بعد نیا ٹینڈر اسی وقت جاری کیا جاتا ہے جب متعلقہ فارسٹر کام کی تسلی بخش تکمیل کی تصدیق کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: سی ڈی اے کا اسلام آباد سے الرجی پیدا کرنے والے درختوں کو اکھاڑنے کا فیصلہ

’پہلا ٹینڈر سیکٹر ایف-8 کے لیے جاری ہوا، جہاں 490 بڑے اور 650 چھوٹے درختوں کو کامیابی سے کاٹا گیا، دوسرا ٹینڈر مئی 2025 کو سیکٹر جی-8 کے لیے جاری کیا گیا، جس میں 1,405 بڑے اور 896 چھوٹے درختوں کی کٹائی شامل ہے۔‘

سی ڈی اے نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہر کٹے ہوئے پیپر ملبری درخت کی جگہ 10 ماحول دوست درخت لگائے جائیں گے۔ اس مقصد کے تحت مجموعی طور پر 57,150 پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف 9 پارک میں درختوں کی کٹائی پر حکم امتناع برقرار رہے گا، سپریم کورٹ

سی ڈی اے حکام کے مطابق ان درختوں کا انتخاب مقامی ماحولیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کا قدرتی توازن برقرار رہے اور فضائی آلودگی میں واضح کمی لائی جا سکے۔

 پیپر ملبری کی کونسے درخت لگائے جائیں گے؟

عرفان نیازی کا کہنا تھا کہ پیپر ملبری درختوں کی جگہ جو ماحول دوست پودے لگائے جائیں گے، ان میں کچنار، املتاس، پیپل، نیم اور اسی نوعیت کے دیگر مقامی اقسام کے درخت شامل ہیں۔

پیپر ملبری اسلام آباد میں کیسے پھیلا؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عرفان نیازی نے بتایا کہ 70 کی دہائی کے آخر میں چین سے پیپر ملبری کو پاکستان لایا گیا تھا اور اس کو لانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ بہت جلدی نہ صرف بڑھتا ہے بلکہ تیزی سے پھیلتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اسلام آباد میں متعارف کرایا گیا تاکہ دارالحکومت جلد ہرا بھرا نظر آئے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر اس کا بیج بھی گر جائے تو اس سے فوری طر پر اس کی افزائش شروع ہو جاتی ہے اور اس کا سب سے بڑا جو نقصان ہے وہ انسانی صحت ہے۔ اور دوسرا یہ کہ یہ اپنی جگہ پر کسی دوسرے پودے کی افزائش ہی نہیں ہونے دیتا۔

پیپر ملبری کے انسانی صحت اور ماحول پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

پلمونولوجسٹ ڈاکٹر اسداللہ نعمتی سمجھتے ہیں کہ پیپر ملبری کا شمار ان غیر مقامی درختوں میں ہوتا ہے جو اگرچہ تیزی سے نمو پاتے ہیں لیکن انسانی صحت پر کئی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، خاص طور پر بہار کے موسم میں یہ درخت بڑی مقدار میں پولن پیدا کرتے ہیں، جو فضا میں شامل ہو کر سانس کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے۔

’اس کے نتیجے میں شہریوں کو نزلہ، زکام، آنکھوں میں خارش، کھانسی، مسلسل چھینکوں اور دمے جیسی الرجی کی شکایات لاحق ہو جاتی ہیں۔ حساس افراد، خصوصاً بچے، بزرگ اور سانس کی بیماریوں کے مریض، اس پولن سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور بعض اوقات اسپتال تک پہنچ جاتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ پیپر ملبری کی موجودگی شہر کی فضائی معیار کو بھی متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ دوسرے مفید اور ماحول دوست درختوں کی افزائش میں رکاوٹ بنتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سٹی کورٹ میں سانحہ گل پلازہ کا چالان مسترد کیوں ہوا اور ازسرنو تحقیقات کرانے کا حکم کیوں سامنے آیا؟

ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟

کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، مریم نواز کا مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا اعلان

افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

چین 2030 تک سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرانے کا منصوبہ کیوں بنا رہا ہے؟

ویڈیو

سٹی کورٹ میں سانحہ گل پلازہ کا چالان مسترد کیوں ہوا اور ازسرنو تحقیقات کرانے کا حکم کیوں سامنے آیا؟

ایرانی وزیر داخلہ کے اعزاز میں اسلام آباد پولیس کی پروقار تقریب، گارڈ آف آنر پیش

اسحاق ڈار کی چین میں پاکستانی سفیر کو پاک چین تعاون میں مزید وسعت دینے کی ہدایت

کالم / تجزیہ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟