آن لائن پلیٹ فارمز یا غیر رجسٹرڈ فروخت کنندگان سے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنا شہریوں کے لیے فراڈ اور قانونی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
لاہور پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 7 برسوں کے دوران لاہور میں دسیوں ہزار افراد نادانستہ طور پر چوری یا چھینے گئے موبائل فون استعمال کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کی انوکھی پورٹیبل موبائل مارکیٹ میں کون کون سے فون دستیاب ہیں؟
پنجاب پولیس موبائل ٹریکنگ یونٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2025 کے دوران لاہور میں 35 ہزار سے زائد افراد چوری یا چھینے گئے موبائل فون استعمال کرتے پائے گئے، پولیس نے 35 ہزار سے زیادہ موبائل فون برآمد کیے اور ان کے استعمال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی۔
پولیس حکام کے مطابق برآمد کیے گئے موبائل فونز کی مجموعی مالیت 87.5 ملین روپے سے زائد ہے۔ صرف 2025 میں 6 ہزار سے زیادہ چوری یا چھینے گئے موبائل فون ٹریس کیے گئے جن کی مالیت 15 ملین روپے سے زیادہ بتائی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آن لائن یا غیر رجسٹرڈ افراد سے موبائل فون خریدنے والے شہریوں کو چوری شدہ ڈیوائس خریدنے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی، مالی نقصان اور موبائل فون ضبط ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کے بعد پاکستان میں موبائل فونز بھی سستے، قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی؟
حکام نے شہریوں کو غیر معمولی طور پر سستے سودوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کے مطابق غیر رجسٹرڈ یا مشکوک موبائل فونز کی خرید و فروخت میں ملوث ڈیلرز کے خلاف کارروائی کے لیے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، جبکہ موبائل فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز فروخت کرنے والی ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف مستند اور رجسٹرڈ موبائل فون ڈیلرز سے ہی خرید و فروخت کریں اور موبائل فون خریدنے سے قبل ملکیت اور آئی ایم ای آئی کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔
پولیس نے مشکوک فروخت کنندگان کی اطلاع پولیس کو دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے تاکہ شہر میں موبائل فون چوری کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔














