وزیراعظم نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا نیا چیئرمین تعینات کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ ڈاکٹر کبیر سدھو اس سے قبل چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو پاکستان اور برطانیہ میں 20 سال سے زائد قانونی اور ریگولیٹری تجربہ حاصل ہے۔ وہ یونیورسٹی آف مانچسٹر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں اور قانون، بینکنگ اور مالیاتی ریگولیشن کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ڈاکٹریٹ اسٹاک ایکسچینجز کے ضوابط اور سرمایہ کاروں کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر سدھو نے برطانیہ میں انشورنس کمپنیوں، لا فرمز اور مختلف مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں، جبکہ پاکستان میں وزارتِ قانون اور پرائیویٹائزیشن کمیشن میں سینئر لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی زیادہ نقصانات والے بجلی کے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت
ان کے دورِ چیئرمینی میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ عدالتی بیک لاگ میں 70 فیصد کمی کی گئی اور دو برس کے دوران عدالتوں اور ٹربیونلز میں زیر التوا 567 مقدمات میں سے 434 کے فیصلے ہوئے۔ اسی عرصے میں کمیشن نے 1.36 ارب روپے کے جرمانے ریکور کیے، جبکہ کارٹلز اور گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف ایک ارب روپے سے زائد کے نئے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام سے متعلق ڈاکٹر کبیر سدھو کے متوازن، شفاف اور پیشہ ورانہ فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی تعیناتی سے ایس ای سی پی میں اصلاحات، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مزید فروغ ملے گا۔















