سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے کہا ہے کہ مشترکہ سائبر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق آمنہ بلوچ نے اسلام آباد میں 5 روزہ سائبر کیپیسٹی بلڈنگ اور پالیسی ٹریننگ پروگرام کا افتتاح کیا۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کے انسٹیٹیوٹ برائے ڈیزارمینٹ ریسرچ ’یو این آئی ڈی آئی آر‘ کے اشتراک اور گلوبل افیئرز کینیڈا کی معاونت سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور سائبر خطرات اور سائبر اسپیس میں حکمرانی کے چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی قومی سائبر سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے پی کے سرٹ اور کیسپرسکی کا اسٹریٹجک اشتراک
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ نے قومی مضبوطی، بین الاقوامی امن و استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے سائبر سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی کے عالمی اقدامات میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے
افتتاحی سیشن میں دیگر مقررین میں ’یو این آئی ڈی آئی آر‘ کے ڈائریکٹر روبن گیئس، پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان، اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ شامل تھے۔
انہوں نے سائبر شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ پالیسی پر مبنی تربیت اور عملی مشقیں ریاستوں کی سائبر خطرات، بشمول بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے جواب دینے کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہیں۔
مزید پڑھیں: بدلتے سیکیورٹی منظرنامے میں ملک کو ہمہ گیر چیلنجز کا سامنا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
5 روزہ پروگرام میں پالیسی ساز، تکنیکی ماہرین اور قومی اداروں کے اکیڈمک ممبران شرکت کررہے ہیں، اور اس میں ماہرین کی قیادت میں سیشنز، منظرنامہ مباحثے اور ٹیبل ٹاپ مشقیں شامل ہیں جو سائبر خطرات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سائبر کرائم، واقعہ پر ردعمل، اور بین الاقوامی تعاون کے فریم ورک کا احاطہ کرتی ہیں۔














