پاکستان کی نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (پی کے سرٹ) اور عالمی شہرت یافتہ سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے درمیان پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس شراکت داری کو پاکستان کی قومی سائبر سلامتی کے نظام کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم اور اسٹریٹجک پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ادارے سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی، ان کے مؤثر تدارک اور مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔ اس اشتراک کا بنیادی مقصد ملک میں سائبر مزاحمت(Cyber Resilience)کو فروغ دینا ہے تاکہ سرکاری اداروں، کاروباری شعبے، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو جدید سائبر چیلنجز سے محفوظ بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں قومی انتخابات اور ریفرنڈم سے قبل سائبر سیکیورٹی مزید سخت
پی کے سرٹ اور کیسپرسکی کی شراکت داری کے تحت وسیع پیمانے پر تربیتی پروگرامز، آگاہی مہمات اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد ایک ایسی باصلاحیت اور تربیت یافتہ سائبر سیکیورٹی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو قومی اور بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں متعلقہ فریقین کو سائبر خطرات سے متعلق قابلِ عمل معلومات اور الرٹس بروقت فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے میں سائبر سیکیورٹی کے مختلف اہم شعبوں میں تعاون شامل ہے، جن میں قانون سازی اور ریگولیشنز، سائبر واقعات کی نشاندہی اور فوری ردعمل، حفاظتی حکمتِ عملیاں، سائبر سیکیورٹی تعلیم، تحقیق و ترقی اور پیشہ ورانہ معلومات کا تبادلہ شامل ہیں۔ دونوں ادارے سائبر حملوں، خطرات اور کمزوریوں سے متعلق تکنیکی ڈیٹا، انٹیلیجنس اور ڈیٹا فیڈز کا تبادلہ بھی کریں گے تاکہ شہریوں، سرکاری اداروں اور نجی کاروباروں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
معاہدے پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل نیشنل سرٹ ڈاکٹر حیدر عباس (تمغۂ امتیاز) اور کیسپرسکی کے جنرل منیجر برائے مشرقِ وسطیٰ و پاکستان راشد المومنی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر کیسپرسکی کے سی ای او یوجین کیسپرسکی اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ بھی موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: ریاض میں بلیک ہیٹ 2025: سعودی عرب ایک بار پھر عالمی سائبر سیکیورٹی کا مرکز بننے کو تیار
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر عباس نے کہا کہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ سائبر جاسوسی، رینسم ویئر، ڈیٹا لیکس، شناخت کی چوری، اہم تنصیبات پر حملے اور غلط معلومات کی مہمات جیسے سنگین چیلنجز بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیسپرسکی جیسے عالمی ادارے کے ساتھ تعاون قومی سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
کیسپرسکی کے جنرل منیجر راشد المومنی نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی کے تحفظ کے لیے مضبوط سائبر سیکیورٹی ناگزیر ہے، جو سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان گہرے اور مسلسل تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی کے سرٹ کے ساتھ یہ شراکت داری پاکستان کی محفوظ ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔














