بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روہنگیا کیس، میانمار کٹہرے میں

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گیمبیا کے وزیرِ خارجہ داودا جالو نے اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو بتایا ہے کہ میانمار نے ’نسل کش پالیسیوں‘ کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کی۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں 2019 میں دائر کیے گئے ایک تاریخی مقدمے کی سماعت جاری ہے، جو مسلم اکثریتی مغربی افریقی ملک گیمبیا نے دائر کیا تھا۔

اس مقدمے میں میانمار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے دانستہ طور پر اپنی اقلیتی مسلم آبادی، روہنگیا، کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ میانمار ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

داودا جالو نے کہا کہ گیمبیا نے ’قابلِ اعتبار رپورٹس‘ کا جائزہ لیا ہے جن میں ایک نہایت کمزور گروہ کے خلاف انتہائی سفاک اور وحشیانہ مظالم کی تفصیلات موجود ہیں۔

2017 میں میانمار کی فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ 7 لاکھ سے زائد افراد جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہو گئے۔

پیر کے روز عدالت سے خطاب کرتے ہوئے جالو نے کہا کہ روہنگیا دہائیوں سے شدید مظالم اور برسوں پر محیط غیر انسانی پروپیگنڈے کا شکار رہے، جس کے بعد فوجی کریک ڈاؤن ہوا اور ’مسلسل نسل کش پالیسیاں‘ اپنائی گئیں جن کا مقصد میانمار میں روہنگیا کے وجود کو مٹانا تھا۔

2018 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میانمار کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف ریاست راکھائن میں نسل کشی اور دیگر علاقوں میں انسانیت کے خلاف جرائم پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تاہم میانمار نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی کارروائیاں شدت پسند اور باغی خطرات کے خلاف تھیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب میں اہم پیشرفت: روہنگیا مسلمانوں کا دیرینہ قانونی مسئلہ حل

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی سماعت کے دوران میانمار کو بھی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ سماعتیں مہینے کے آخر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عدالت نے 3 روز گواہوں کے بیانات کے لیے بھی مختص کیے ہیں، جن میں زندہ بچ جانے والے روہنگیا افراد شامل ہوں گے، تاہم یہ سیشنز عوام اور میڈیا کے لیے بند ہوں گے۔

حتمی فیصلہ کئی ماہ، بلکہ ممکنہ طور پر کئی سال بعد متوقع ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف افراد پر نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلا سکتی، لیکن اس کے فیصلے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

داودا جالو نے کہا کہ گیمبیا نے یہ مقدمہ اپنی فوجی آمریت کے تجربے کے باعث ’ذمہ داری کے احساس‘ کے تحت دائر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے میانمار مظالم اور استثنیٰ کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنسا ہوا ہے، جس کا حوالہ انہوں نے 2021 میں فوجی بغاوت کے ذریعے سویلین حکومت کے تختہ الٹنے کی طرف دیا۔

میانمار کی سابق رہنما آنگ سان سوچی، جنہیں بغاوت کے بعد معزول کر کے قید کر دیا گیا، روہنگیا کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر فوج کے دفاع کے باعث انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر اپنی عالمی ساکھ کھو بیٹھیں۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں ہی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے اور گنجان آباد کیمپوں میں شمار ہوتے ہیں۔

دیگر روہنگیا جان پر کھیل کر سمندری راستوں سے ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مقدمہ دیگر نسل کشی کے مقدمات کے لیے بھی نظیر بننے کی توقع ہے، جن میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف دائر کیا گیا کیس بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کو سمندر برد کرنے پر اقوام متحدہ کی بھارت سے جواب طلبی

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی سماعت کے دوران میانمار کو بھی الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ سماعتیں مہینے کے آخر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

عدالت نے 3 دن گواہوں کے بیانات کے لیے بھی مختص کیے ہیں، جن میں روہنگیا زندہ بچ جانے والے افراد شامل ہوں گے، تاہم یہ سیشنز عوام اور میڈیا کے لیے بند ہوں گے۔

حتمی فیصلہ کئی ماہ، بلکہ ممکنہ طور پر کئی سال بعد متوقع ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف افراد پر نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلا سکتی، لیکن اس کے فیصلے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت کیجانب سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

یہ مقدمہ دیگر نسل کشی کے مقدمات کے لیے بھی نظیر بننے کی توقع ہے، جن میں جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف دائر کیا گیا کیس بھی شامل ہے۔

یہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد سنا جانے والا پہلا ایسا مقدمہ ہے اور اسے نسل کشی کی تعریف سے متعلق قوانین کو مزید واضح کرنے کا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلھے شاہ ایکسپریس کی 28 مئی سے بحالی کا اعلان

سرکاری ملازمیں ہر صبح 40 منٹ دفتر میں گزاریں، بنگلہ دیش میں ملازمین کو ہدایت

سپریم کورٹ نے انسانی اسمگلنگ کے ملزم کی ضمانت مسترد کر دی

پاکستان کو متبادل روٹ سے تیل کی سپلائی، سعودی عرب کی مکمل حمایت

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے