بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی کارکن فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر مشتمل مشترکہ فورس کی تحویل میں ہلاک ہو گیا، جس کے بعد حکام نے واقعے کی اعلیٰ سطحی داخلی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ یہ کارروائی 12 جنوری کی رات تقریباً 11 بجے جِیبان نگر اپازیلہ، ضلع چوادانگا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں علاقے میں غیر قانونی اسلحے کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش
کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے محمد شمس الزمان عرف ‘ڈبل’ (عمر تقریباً 50 سال) کو جِیبان نگر اپازیلہ ہیلتھ کمپلیکس کے قریب واقع ایک فارمیسی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا۔
بیان میں کہا گیا کہ زیرِ حراست شخص کی نشاندہی پر سیکیورٹی ٹیم نے متعلقہ مقام کی تلاشی لی، جہاں سے ایک 9 ایم ایم پستول، ایک میگزین اور چار کارتوس برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائی مکمل ہونے کے بعد زیرِ حراست شخص اچانک بیمار ہو گیا اور بے ہوش ہو گیا۔
محمد شمس الزمان کو فوری طور پر جِیبان نگر اپازیلہ ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے رات 12 بج کر 25 منٹ پر اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
فوجی حکام نے واقعے کو ‘غیر متوقع، افسوسناک اور ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ واقعے کے بعد کیمپ کمانڈر سمیت آپریشن میں شامل تمام فوجی اہلکاروں کو کینٹونمنٹ واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے سینئر سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران کسی اہلکار کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو فوجی قانون کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔













