لاہور کے ہال روڈ پر سولر پینل اور انورٹر کے کاروبار سے متعلق چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن کا تعلق 4 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ سے ہے۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آرز قلعہ گُجّر سنگھ پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406 (فوجداری خیانت) کے تحت درج کی گئی ہیں۔ کم از کم 11 تاجروں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے بھروسے پر بڑی رقم وصول کی اور پھر فنڈز ہتھیانے کے بعد کاروبار بند کر کے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ؟
ملزمان ساغر احمد، صدام حسین اور افضال جو ’نیو کراچی سولر‘ کے نام سے کاروبار کرتے تھے انہوں نے کئی تاجروں سے پیشگی ادائیگیاں اور کاروباری جمع پونجی وصول کی اور پھر اپنی دکانیں بند کر کے لاپتہ ہو گئے۔
ایک ایف آئی آر کے مطابق عمیر یوسف، عقیل عامر، حسن بلال اور سید ابوذر نے سولر آلات کی فراہمی اور دیگر کاروباری لین دین کے لیے مجموعی طور پر 1 کروڑ 62 لاکھ 68 ہزار روپے ملزمان کو ادا کیے جو واپس نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر سستا ہو گیا مگر عام پاکستانی کیوں محروم ہے؟
تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ صدام حسین جو لودھراں کا رہائشی ہے اس اسکینڈل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے اپنے دوست اور ملازم کی مدد سے یہ فراڈ سر انجام دیا۔














