مودی کی توجہ طلبی اور جرمن چانسلر کی دوری، بھارتی وزیراعظم ایک بار پھر مذاق کا نشانہ بن گئے

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئے۔ ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں مودی مسلسل جرمن چانسلر اولاف شولز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن چانسلر احتیاط کے ساتھ دوری برقرار رکھتے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن چانسلر شولز محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ وزیرِ اعظم مودی انہیں کچھ دکھانے یا متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مودی نے کئی بار ہاتھ سے اشارہ کر کے شولز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چانسلر ہر بار دوسرا رخ اختیار کر لیتے ہیں۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور مودی کو ایک بار پھر تنقید اور مزاح کا مرکز بنا دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ مودی کو نفسیاتی معائنہ کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ انہوں نے غیر ملکی سربراہ کو مسلسل تنگ کیا، کیمرے کی جانب نظریں جمائے رکھیں اور جیسے ہی تصویر کھینچی گئی فوراً رک گئے۔

 صارف نے مزید کہا کہ ایسے رویے کے حامل شخص کا ملک کی قیادت کرنا انتہائی خطرناک ہے۔

روشن نامی صارف نے کہا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھیں، کیا یہ رویہ معمول کے مطابق ہے؟ کیا آپ اس پر شرمندگی محسوس نہیں کرتے؟ کیا آپ واقعی چاہتے ہیں کہ یہی شخص ہمارے ملک کی قیادت کرے؟

ڈاکٹر نمو یادیو لکھتے ہیں کہ مودی واقعی بہت پریشان کن شخصیت کے مالک ہیں۔ جب کوئی انہیں صاف طور پر نظرانداز کر رہا ہوتا ہے تب بھی وہ اس شخص کو وہ کام کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتے۔

سعدیہ خالد نے لکھا کہ کیا پوری دنیا میں مودی سے زیادہ توجہ کا بھوکا کوئی اور سربراہ بھی ہو سکتاہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اسکرپٹ کے مطابق مودی جرمن چانسلر  کو نصیحت دیتے ہوئے دیوار پر بنی پینٹنگ کو فطری انداز میں دیکھتے ہوئے دکھائے جانے تھے۔ مودی نے خود کو مکمل طور پر کردار میں ڈھال لیا لیکن چانسلر ایسے اسکرپٹ شدہ شاٹس کے عادی نہیں ہیں اس لیے وہ کچھ الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp