بنگلہ دیش میں ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم نیٹ ورک فار پیپلز ایکشن نے باضابطہ طور پر اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نوجوان سماجی و سیاسی کارکنوں پر مشتمل ہے، جن کا تعلق بائیں بازو اور اعتدال پسند نظریات سے بتایا جاتا ہے اور جنہوں نے گزشتہ سال جولائی کی عوامی تحریک میں فعال کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے
اس پلیٹ فارم کی افتتاحی تقریب جمعے کی دوپہر ڈھاکہ کے مرکزی شہید مینار پر منعقد ہوئی، جہاں 101 رکنی مرکزی کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر فردوس آرا رومی، معین الاسلام توہین المعروف توہین خان اور نازیفہ جنت کو ترجمان مقرر کیا گیا۔ ترجمانوں اور کونسل کے ارکان کے نام مرکزی کونسل کے رکن میر حذیفہ الممدوح نے اعلان کیے، جبکہ تقریب کی نظامت بھی انہوں نے کی۔

ترجمانوں میں فردوس آرا رومی اور توہین خان بطور مصنف اور سیاسی کارکن جانے جاتے ہیں، جبکہ نازیفہ جنت اینٹی ڈسکریمنیشن اسٹوڈنٹ موومنٹ کی سابق کوآرڈینیٹر اور اسٹوڈنٹس یونین کی رہنما رہ چکی ہیں۔
مرکزی کونسل میں نیشنل سٹیزنز پارٹی کے 4 سابق رہنما بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں پارٹی سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان میں اینک رائے، توہین خان، اولک مری اور سیدہ نیلمہ ڈولا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل سٹیزنز کمیٹی کے سابق رکن سید امتیاز ندوی کو بھی کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی عوامی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی منظوری دیدی
دیگر نمایاں ارکان میں پروفیسر علیور سان، اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر باقی بلاللہ، ڈھاکہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے موجودہ صدر میگھ ملار بوسو، جنرل سیکریٹری معین احمد، اینٹی ڈسکریمنیشن اسٹوڈنٹ موومنٹ کے سابق کوآرڈینیٹر نعمان احمد چوہدری اور سماجی کارکن رافسان احمد شامل ہیں۔

تقریب کے بعد تینوں ترجمانوں نے پلیٹ فارم کا منشور پیش کیا، جس میں 5 بنیادی اصول بیان کیے گئے۔ ان اصولوں میں جمہوریت، برابری، انسانی وقار، سماجی انصاف اور زندگی، فطرت اور ماحول کا تحفظ شامل ہیں۔
منشور میں بنگلہ دیش کی تاریخی جدوجہد، بالخصوص جولائی کی عوامی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد محض حکمرانوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا خاتمہ تھا جسے غیر جمہوری قرار دیا گیا، اور ایک حقیقی جمہوری ڈھانچے کا قیام تھا۔

منشور میں عبوری حکومت پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اصلاحات کے وعدوں کے باوجود 18 ماہ بعد صورتحال مایوس کن ہے اور سیاسی شمولیت کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے مزید محدود ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: قاتلانہ حملے میں زخمی طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی دوران علاج چل بسے
نئے پلیٹ فارم نے موجودہ سیاسی ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثریتی غلبہ اقلیتی آوازوں کو دبانے کا سبب بن رہا ہے، مذہبی، نسلی اور صنفی اقلیتوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، شدت پسند گروہوں کے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہریوں کے خلاف ریاستی تشدد جاری ہے، جبکہ بنیادی انسانی اور شہری حقوق کا مؤثر تحفظ موجود نہیں۔

منشور میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ عبوری حکومت اہم معاملات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ نیٹ ورک فار پیپلز ایکشن آئندہ ہفتے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل اور سرگرمیوں سے آگاہ کرے گا۔ اس موقع پر متعدد معروف دانشور، شاعر، ادیب، فنکار اور سماجی کارکن بھی موجود تھے، جبکہ پروگرام کا اختتام ایک قومی نغمے کی اجتماعی پیشکش پر ہوا۔













