ٹیرف میں نرمی، چینی الیکٹرک گاڑیاں عالمی مقابلے میں مزید مضبوط

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رواں برس چینی الیکٹرک گاڑی (ای وی) ساز کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ متعدد مغربی ممالک اپنی منڈیاں اعلیٰ کارکردگی کی حامل ’میڈ اِن چائنا‘ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کھول رہے ہیں۔

اگرچہ بیرونِ ملک فروخت میں کسی بڑے اضافے کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم صنعت سے وابستہ حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق بی وائی ڈی اور جیلی جیسی چینی کمپنیاں ان منڈیوں میں مضبوط آغاز کرسکتی ہیں جہاں وہ اب تک موجود نہیں رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

اس کا مقصد طویل المدتی بنیادوں پر قدم جمانے سے پہلے خود کو پیداوار اور ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں کے طور پر منوانا ہے۔

مشرقی صوبہ ژے جیانگ میں آٹو موبائل پرنٹڈ سرکٹ بورڈز بنانے والی فیکٹری کے مالک چیان کانگ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور کینیڈا میں پالیسی میں تبدیلیوں نے چینی ای وی گاڑیوں کے لیے بڑی مغربی منڈیوں میں داخلے کی امید پیدا کر دی ہے۔

ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ برانڈ سازی اور معیار پر توجہ دے کر مقامی صارفین کو متاثر کیا جائے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بیجنگ کے سرکاری دورے کے اختتام پر اعلان کیا کہ کینیڈا چینی ساختہ خالص الیکٹرک گاڑیوں پر عائد اضافی 100 فیصد تعزیری ٹیرف ختم کر دے گا، تاہم سالانہ درآمدی حد 49 ہزار گاڑیاں مقرر کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بھارت کو بڑا جھٹکا، چین نے نایاب دھاتوں کی برآمد پر پابندی عائد کردی

اس کے ساتھ ہی چینی بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں پر 6.1 فیصد ٹیرف برقرار رہے گا، جن میں زیادہ تر گاڑیاں 500 کلومیٹر سے زائد رینج اور جدید ان کار تفریحی نظام کی حامل ہیں۔

یہ فیصلہ اس اعلان کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جس میں یورپی یونین اور چین نے 7.8 فیصد سے 35.3 فیصد تک کے ٹیرف کو قیمت کے معاہدوں سے تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین کی کار ساز کمپنی کا پا کستان میں گاڑیاں متعارف کرانے کا اعلان

اس اقدام سے چینی ای وی ساز کمپنیوں کو بین الاقوامی توسیع کے دوران زیادہ منافع کمانے میں مدد ملے گی۔

چین کی دوسری بڑی ای وی ساز کمپنی جیلی نے کہا ہے کہ کینیڈا کا ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ اس کے لیے اور دیگر مقامی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے، کمپنی کے مطابق بظاہر یہ درست سمت میں ایک مثبت قدم ہے، تاہم تفصیلات پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے مطابق، دنیا کا سب سے بڑا ای وی بنانے والا ملک چین، گزشتہ سال 26 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں برآمد کرچکا ہے، جن میں خالص الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں شامل ہیں، جو سال بہ سال 104 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

تاہم جنوب مشرقی ایشیا اور روس جیسی منڈیوں میں غلبہ حاصل کرنے کے باوجود، چینی ای وی گاڑیاں اب تک امریکا اور یورپی یونین جیسی بڑی منڈیوں میں عالمی برانڈز کے لیے سنجیدہ خطرہ ثابت نہیں ہو سکیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں اہم سنگ میل، مقامی طور پر اسمبل الیکٹرک کاریں لانچ

میڈیا رپورٹس کے مطابق پر یورپ میں فروخت کم رہنے کے خدشے کے باعث 2025 کی بلند بنیاد کے بعد اس سال چین کی ای وی برآمدات کی شرح نمو میں سست روی آ سکتی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے 2024 میں 100 فیصد ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد وہاں چین کی ای وی برآمدات تقریباً صفر تک پہنچ گئی تھیں۔

شنگھائی میں قائم ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سی این ای وی پوسٹ کے بانی فیت ژانگ کے مطابق 50 ہزار سے کم گاڑیوں کی حد مجموعی برآمدی حجم کے لیے کافی نہیں، لیکن اگر چینی کمپنیاں مقامی صارفین کو اپنی گاڑیوں کی قابلِ اعتماد ہونے پر قائل کر لیں تو یہ ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق شمالی امریکا کی بڑی منڈی کا حصہ ہونے کے باعث کینیڈا چینی کمپنیوں کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔

یورپی آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی خالص الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی نے 2025 کے پہلے 11 ماہ میں یورپ میں ایک لاکھ 59 ہزار 869 گاڑیاں فروخت کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 276 فیصد زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنیوں نے کیسے پاکستان میں ہونڈا، سوزوکی اور کرولا کی اجارہ داری ختم کی؟

تاہم یورپی منڈیوں میں فروخت ہونے والی چینی ساختہ ای وی گاڑیوں پر بی وائی ڈی کو 10 فیصد عمومی ٹیرف کے علاوہ 17 فیصد اینٹی سبسڈی ڈیوٹی کا بھی سامنا ہے، کینیڈا میں ٹیرف کے خاتمے سے بی وائی ڈی کے منافع میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ اس کی بیرونِ ملک ترسیلات اب اس کی مجموعی فروخت کا تقریباً 20 فیصد ہیں۔

چائنا پیسنجر کار ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی ای وی منڈی چین ہے، جہاں گزشتہ سال دنیا بھر میں فروخت ہونے والی نئی الیکٹرک گاڑیوں کا تقریباً 70 فیصد حصہ چینی خریداروں نے خریدا، جس کی تعداد لگ بھگ ایک کروڑ 30 لاکھ بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کیوں، کونسی زیادہ بک رہی ہیں؟

یو بی ایس سیکیورٹیز کے تحقیقی سربراہ شو بن کے مطابق چین سے برآمد ہونے والی زیادہ تر گاڑیاں ایک لاکھ یوان کے قریب قیمت رکھتی ہیں، تاہم اب 3 لاکھ یوان مالیت کی گاڑیاں بھی بیرونِ ملک فروخت ہو رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی کار ساز کمپنیاں بہتر اور جدید مصنوعات کے ذریعے ویلیو چین میں اوپر جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بسنت کے رنگ فیشن مارکیٹ میں، پاکستانی برانڈز کی خصوصی کلیکشنز اور آفرز

 بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات

ریکارڈ اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوا؟

بھارتی فلم دھرندھر نیٹ فلکس پر ریلیز، اصلی فلم کہاں گئی؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا: احتجاج کے حوالے سے پتے پوشیدہ ہیں، وی نیوز سے خصوصی گفتگو

ویڈیو

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا: احتجاج کے حوالے سے پتے پوشیدہ ہیں، وی نیوز سے خصوصی گفتگو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے