مولی کے 6 اہم طبی فوائد، صحت مند زندگی کے لیے ایک سادہ مگر طاقتور سبزی

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

مولی، جسے اردو اور ہندی میں عام طور پر مولی یا مُلی کہا جاتا ہے، ایک ایسی جڑ دار سبزی ہے جو بظاہر سادہ لیکن غذائیت کے اعتبار سے نہایت بھرپور ہے۔ یہ سبزی صدیوں سے برصغیر کی خوراک اور روایتی طب کا حصہ رہی ہے۔ کم کیلوریز، زیادہ پانی اور وٹامنز و معدنیات سے بھرپور مولی روزمرہ غذا میں شامل کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ذیل میں مولی کے چھ اہم طبی فوائد کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سردیوں کی سوغات: گاجر کا حلوہ

مولی ہاضمے کے لیے قدرتی معاون سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے۔ آیوروید کے مطابق مولی بھوک بڑھانے اور معدے میں ہاضم رطوبتوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے، جس سے بدہضمی، تیزابیت اور اپھارے میں کمی آتی ہے۔

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی مولی کا اہم کردار ہے۔ اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جسم کو انفیکشنز سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مولی میں موجود قدرتی مرکبات اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات رکھتے ہیں، جو نزلہ، زکام اور معمولی انفیکشنز کے خلاف مزاحمت بڑھاتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مولی ایک مفید سبزی ہے کیونکہ اس کا گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔ فائبر شوگر کے جذب کو سست کرتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق مولی کے اجزا انسولین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اخروٹ اور بادام کہاں گئے؟ پاکستان پوسٹ کے ملازمین پر جرمانہ عائد

مولی جگر اور گردوں کی صفائی میں معاون سمجھی جاتی ہے۔ اسے قدرتی ڈیٹاکس سبزی کہا جاتا ہے جو پیشاب آور اثر رکھتی ہے اور جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ روایتی طب میں مولی کا رس یرقان کے علاج میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

جلد کی صحت کے لیے بھی مولی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود پانی، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو نمی فراہم کرتے ہیں، جھریوں سے بچاتے ہیں اور چہرے پر قدرتی نکھار لانے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض گھریلو ٹوٹکوں میں مولی کے رس کو مہاسوں اور خارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوزش کم کرنے کی خصوصیات بھی مولی کا ایک اہم فائدہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق مولی میں موجود قدرتی اجزا جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عوامل کو کم کرتے ہیں، جس سے جوڑوں کے درد، سانس کی نالی کی سوزش اور دیگر مسائل میں افاقہ ہو سکتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق مولی کو سلاد، سبزی، پراٹھے، سوپ یا جوس کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اعتدال ضروری ہے کیونکہ زیادہ مقدار میں کچی مولی گیس یا معدے کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر مولی ایک سستی، آسانی سے دستیاب اور بے حد مفید سبزی ہے جو صحت مند زندگی کے لیے روزمرہ خوراک میں ضرور شامل ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp