اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حکمران اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا، جس میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے قائم کیے گئے غزہ مشاورتی پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا۔
وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے اعلان کیاکہ ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ قائم کیا گیا ہے، جو وسیع تر بورڈ آف پیس کے تحت کام کرے گا اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی حاصل ہوگی، یہ اقدام غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی
اس ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی کردار رکھنے والا قرار دیا گیا ہے، جس میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثواڈی کے علاوہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی اہلکار شامل ہیں۔
ہفتے کی رات نیتن یاہو کے دفتر نے ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل پر باقاعدہ اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اس بورڈ کی ساخت اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر طے کی گئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر نے بیان دیا کہ ’بورڈ آف پیس کے تحت قائم غزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل کا اعلان اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر کیا گیا اور یہ ملک کی پالیسی کے خلاف ہے۔‘
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کریں۔
اعتراض کی وجہ واضح نہیں کی گئی، لیکن اسرائیل نے پہلے بھی جنگ کے بعد غزہ میں کسی بھی ترک کردار کی سخت مخالفت کی ہے، اور اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایگزیکٹو بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ کے نام کے ساتھ ساتھ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی مجموعی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں تین ادارے شامل ہوں گے: بورڈ آف پیس، جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے، فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی جو غزہ کے انتظام کے لیے ذمہ دار ہوگی، اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ جو مشاورتی کردار ادا کرے گا۔ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس ہفتے کو قاہرہ میں منعقد کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
یہ سفارتی پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے اس ہفتے کہاکہ غزہ امن منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔














