کراچی کے بعد کوئٹہ میں بھی ایک بڑے تجارتی پلازے میں آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ کوئٹہ کے مصروف تجارتی علاقے پرنس روڈ اور لیاقت بازار سے ملحقہ نجی علیم پلازہ میں آج علی الصبح خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں پلازے میں قائم متعدد دکانیں، دفاتر اور گودام جل کر خاکستر ہو گئے۔
خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مالی نقصان کروڑوں روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
آگ لگنے کی وجہ اور ابتدائی صورتحال
ریسکیو حکام کے مطابق آگ بظاہر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے میں پھیل گئی۔ آگ صبح ساڑھے 4 سے 5 بجے کے درمیان بھڑکی، جس کے بعد شعلوں اور دھوئیں کے کالے بادلوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: پرنس روڈ پر حلیم کمپلیکس میں خوفناک آتشزدگی، سینکڑوں دکانیں متاثر
اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، فائر بریگیڈ، پی ڈی ایم اے، ایف سی، پولیس اور نجی واٹر ٹینکرز فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
آگ بجھانے کے عمل کی نگرانی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈی آئی جی کوئٹہ اور ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد اورنگزیب نے خود موقع پر موجود رہ کر کی۔
کئی گھنٹوں بعد آگ پر قابو
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل چکی تھی، تاہم کئی گھنٹوں کی مسلسل اور مشترکہ کوششوں کے بعد آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا۔
ڈی سی کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، واسا اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ بروقت موقع پر پہنچ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں آگ بجھانے کے ابتدائی آلات موجود نہ ہونے کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوا، تاہم ٹیمیں پلازے کے اندر داخل ہوئیں اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مالی نقصانات کا حتمی تخمینہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد اورنگزیب کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 10 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 20 کے قریب فائر باوزرز اور 70 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پلازے کے اندر گیس سلنڈرز بھی موجود تھے جس کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی، تاہم کسی اہلکار کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹریوں اور دیگر حساس سامان رکھنے والی دکانوں میں فائر فائٹنگ آلات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
تاجروں کے خدشات اور شکایات
انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا نے کہا کہ عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کے باعث ریسکیو میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمارتوں کے باہر نصب کیسکو کے میٹرز اور بجلی کی کھلی تاریں بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، جن پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
کروڑوں کا نقصان، تاجروں کا کرب
پلازے میں کمپیوٹر، موبائل فون، جوتوں، گارمنٹس کی دکانیں، دفاتر اور گودام قائم تھے، جن میں موجود قیمتی سامان مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔

متاثرہ تاجروں کے مطابق انہوں نے عید کی تیاری کے لیے لاکھوں اور کروڑوں روپے کا سامان پہلے ہی منگوا رکھا تھا جو آگ کی نذر ہو گیا، جس سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے جبکہ عمارت کو محفوظ بنانے اور نقصانات کے تخمینے کے لیے مزید سروے کیا جائے گا۔ مسلسل آتشزدگی کے واقعات نے ایک بار پھر تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی انتظامات کی کمی کو نمایاں کر دیا ہے۔












