کراچی میں گزشتہ ایک برس میں چھوٹے بڑے 2500 واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے کچھ ایسے ہیں جو عوام کو اب تک اشتعال دلا رہے ہیں۔ گل پلازہ آتشزدگی واقعہ بھی انہی میں سے ایک ہے جس نے شہر قائد کو سوگوار کردیا ہے، جس کے بعد عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیا جا رہا ہے، خصوصاً سندھ کی صوبائی و مقامی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ کی اپوزیشن جماعتیں احتجاج کا سوچ رہی ہیں۔ کراچی کی بڑی سیاسی جماعت جماعت اسلامی اس پر کیا رائے رکھتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے ’وی نیوز‘ نے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر سے گفتگو کی ہے۔
مزید پڑھیں: صوبائی اسمبلیاں اجازت دیتی ہیں تو نئے صوبے بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں، جماعت اسلامی کراچی
منعم ظفر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں سال سوا سال کے دوران چھوٹے بڑے ڈھائی ہزار واقعات ہو چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ ادارے کہاں ہیں عوام کو تحفظ کون فراہم کرے گا، حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے، کیوں حکومت نے تمام اداروں کو بد انتظامی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیا ہے؟
انہوں نے کہاکہ کسی بھی آفیشل سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ یہ شہر تین ساڑھے تین کروڑ آبادی پر مشتمل ہے لیکن جب مردم شماری کا وقت آیا تو پیپلز پارٹی ن لیگ اور ایم کیو ایم نے بیٹھ کر یہ نوٹیفائی کرایا کہ یہ 2 کروڑ 3 لاکھ کی آبادی کا شہر ہے تو اچانک یہ 3 کروڑ کیسے ہوگئی۔
منعم ظفر کہتے ہیں کہ ساڑھے تین کروڑ والے آبادی کے اس شہر میں 28 فائر اسٹیشنز ہیں، 50 کے لگ بھگ آگ بھجانے والی گاڑیاں ہیں، سانحہ گل پلازہ میں 18 سے 20 گاڑیاں استعمال ہوتی رہی ہیں، جبکہ دو اسنارکلز استعمال ہوئیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ فائر فائٹرز کے پاس حفاظتی سامان تک موجود نہیں، ان کے پاس وہ لباس نہیں جو پہن کر انسان آگ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کیا ذمہ داری ہے، کیا اس ادارے کو پتا ہے کہ یہاں موجود عمارتوں میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود ہے، کراچی کی 75 سے 80 فیصد عمارتوں کی یہ صورت حال ہے کہ یہاں کوئی حفاظتی سہولیات میسر نہیں ہیں۔
’ایسے میں لوگ بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشوں کے منتظر ہوتے ہیں۔ جن کا کاروبار ان کی آنکھوں کے سامنے جل رہا ہو اور وہ بسی سے دیکھ رہے ہوں۔ وہ شہر جو وفاق کو 65 اور سندھ کو 95 فیصد ریوینیو دیتا ہو، جو انڈسٹریل حب ہو وہاں ایسی صورتحال کیوں ہے؟‘
منعم ظفر نے سوال اٹھایا کہ ایسے میں وفاقی حکومت کہاں ہے، نہ وفاقی اور نہ ہی سندھ حکومت نظر آرہی ہے، کے ایم سی کا حال یہ ہے کہ میئر صاحب 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے، جہاں سانحہ ہونے کے بعد وزیراعلیٰ 18 گھنٹے بعد پہنچ رہا ہو، ان لوگوں کو تو استعفیٰ دے دنیا چاہیے تھا، لیکن وہ بھی نہیں دیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 18 سال اس حکومت کو ہوگئے ہیں، اس شہر کو ملنے والی رقم یہ کھا گئے۔
انہوں نے کہاکہ ’اس شہر کو جینے کا حق دو‘ کے نام سے ہم نے مارچ کا اعلان کیا ہے، یکم فروری کو پورا کراچی اس مارچ میں شرکت کرے گا، یہ شہر اپنا حق چاہتا ہے، جینے کا حق چاہتا ہے، یہ شہر لاوارث نہیں، بچے نالوں میں ڈوب کر مر رہے ہیں، ٹینکرز کی زد میں آکر لوگ زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، جبکہ بجلی اور پانی بھی نہیں مل رہا۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں ان لوگوں پر حیرت ہے جنہوں نے انہیں اس شہر پر مسلط کیا ہے، عوام نے تو ان کو مسترد کردیا تھا، جماعت اسلامی آج بھی اس شہر کی سب سے بڑی جماعت ہے، تاہم مرتضیٰ وہاب کو مسلط کردیا گیا۔
’عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوا، اس شہر سے ایک پولنگ اسٹیشن نہ جیتنے والوں کو 15 قومی اسمبلی کی سیٹیں دلا دی گئیں، باقی پیپلز پارٹی کو دے دی گئیں، اب وہی پیپلز پارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم ترامیم کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سانحہ بلدیہ میں ایم کیو ایم کا نام آیا، لیکن جب بات کرو تو کہتے ہیں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں، آگے بڑھو۔ کیوں نہ دیکھیں پیچھے مڑ کر، ایم کیو ایم پی ڈی ایم کے بعد اب بھی حکومت کا حصہ ہے۔
منعم ظفر نے کہا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے نزدیک کراچی واقعی ایک اہم شہر ہے؟ وزیراعظم کراچی آئے، دو تعزیتیں کیں، ریلوے اسٹیشن کی بحالی کا افتتاح کیا اور واپس چلے گئے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید اس شہر کی کوئی اہمیت نہیں۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان
انہوں نے کہاکہ اگر حکمران شادیوں اور دیگر تقریبات سے فرصت پا لیں تو کراچی پر بھی توجہ دیں۔ وزیراعظم نے 28 ممالک کے دورے تو کر لیے، دورے اپنی جگہ، لیکن کراچی وہ شہر ہے جو پورے ملک کی معیشت چلا رہا ہے، اس لیے اس پر رحم کیا جانا چاہیے۔












