بنگلہ دیش: دہائیوں بعد جماعت اسلامی ایوان قتدار کے بہت قریب پہنچ گئی، الجزیرہ کی رپورٹ

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک غیرمعمولی موڑ آ چکا ہے۔ پہلی بار اپنی متنازع اور نشیب و فراز سے بھرپور تاریخ میں، جماعتِ اسلامی کو نہ صرف قومی سیاست میں واپسی کا موقع ملا ہے بلکہ وہ ایک حکومتی اتحاد کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔

’اب ہمیں اقتدار کی امید ہے‘

بنگلہ دیش کے ضلع فریدپور سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بینکر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب انہیں لگتا ہے کہ جس جماعت کو وہ سپورٹ کرتے ہیں، وہ واقعی اقتدار میں آ سکتی ہے۔

اپنے شہر میں جماعتِ اسلامی کے انتخابی نشان ’ترازو‘ کے لیے مہم چلاتے ہوئے عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ لوگ بڑی تعداد میں جماعت کے حق میں متحد ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش، جو دنیا کی آٹھویں سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور چوتھی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھتا ہے، 12 فروری کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیشی انتخابات: بی این پی اتحاد دو نشستوں پر امیدوار سے محروم، جماعت اسلامی کو کوئی بحران درپیش نہیں

یہ انتخابات اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک حکومت کرنے والی وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

بعد ازاں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد انتخابی میدان 2 بڑے فریقوں تک محدود ہو گیا۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور  جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والا انتخابی اتحاد، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور دیگر اسلام پسند جماعتیں شامل ہیں۔

سرویز: جماعت اسلامی بی این پی کے قریب

عبدالرزاق کے اعتماد کی ایک بڑی وجہ حالیہ رائے عامہ کے سرویز ہیں۔ امریکی ادارے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر سروے کے مطابق بی این پی: 33 فیصد اور  جماعتِ اسلامی: 29 فیصد۔ جبکہ گزشتہ ہفتے بنگلہ دیشی اداروں کے مشترکہ سروے میں بی این پی: 34.7 فیصد اور جماعتِ اسلامی: 33.6 فیصد۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی تیزی سے بی این پی کے قریب آ رہی ہے۔

سخت کریک ڈاؤن سے سیاست میں  واپسی تک

اگر جماعت کی قیادت میں انتخابی اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس جماعت کے لیے ایک غیرمعمولی سیاسی واپسی ہو گی، جسے شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور میں بدترین ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا رہا۔ اس دور میں جماعت پر پابندی عائد رہی،  مرکزی رہنماؤں کو پھانسی یا قید کی سزائیں دی گئیں اور ہزاروں کارکن لاپتا یا حراست میں ہلاک ہوئے۔ یہ سب 1971 کی جنگ سے متعلق مقدمات کے تحت قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے فیصلوں کے نتیجے میں ہوا۔

ایک عدالتی تضاد: حسینہ کو بھی سزائے موت

دلچسپ طور پر، نومبر 2025 میں اسی ٹریبونل نے شیخ حسینہ کو 2024 کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت سنائی، جس میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، اور بنگلہ دیش کی درخواستوں کے باوجود بھارت نے انہیں حوالے نہیں کیا۔

جماعتِ اسلامی: قیام سے متنازع ماضی تک

جماعتِ اسلامی کی بنیاد 1941 میں ممتاز اسلامی مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی۔ یہ جماعت 1971 کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی، جس پر آج بھی بنگلہ دیش میں شدید تنقید کی جاتی ہے۔

جنگ کے بعد 1972 میں جماعت پر پابندی عائد کی گئی۔ 1979 میں جنرل ضیاء الرحمٰن نے پابندی ختم کی۔ 1991 اور 2001 میں جماعت بی این پی کے ساتھ اقتدار کا حصہ بنی۔ 2009 میں حسینہ واجد کی واپسی کے بعد جماعت ایک بار پھر نشانے پر آ گئی۔

2024 کے بعد نئی تنظیم اور نئی قیادت

پابندی اٹھنے اور رہنماؤں کی رہائی کے بعد جماعتِ اسلامی نے خود کو ازسرِنو منظم کیا۔ موجودہ قیادت میں امیر شفیق الرحمٰن، نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر اور  سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار ہیں۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کی مقبولیت عوامی ہمدردی اور روایتی سیاست سے  لوگوں کی مایوسی کا نتیجہ ہے۔

شریعت یا اصلاحات؟ خدشات اور وضاحتیں

جماعت کے تیزی سے سیاسی منظر نامے میں ابھرنے پر بعض حلقوں کی طرف سے خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ شریعت نافذ کرے گی اور خواتین کے حقوق محدود کرے گی۔ تاہم جماعتی قیادت ان خدشات کو مسترد کرتی ہے۔ بنگلہ دیش  جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کے مطابق آئین کے تحت حکومت کریں گے، اصلاحات ہماری ترجیح ہوں گی، نہ کہ نظریاتی جبر۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر کا انصاف پر مبنی نظام اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور

اقلیتوں کی طرف قدم: ہندو امیدوار نامزد

جماعت نے تاریخ میں پہلی بار کھلنا سے ایک ہندو امیدوار ’کرشنا نندی‘ کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہ قدم اقلیتوں کو متوجہ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔

ماہرین کی رائے: اقتدار آسان نہیں

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جماعت کا سیاسی منظر نامے میں ابھرنا صرف مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ  کرپشن کے خلاف بیانیہ بڑی وجہ ہے۔ تاہم بی این پی کو پچھاڑنا اب بھی مشکل ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مطابق جماعت اسلامی اپنی تاریخ کا بہترین نتیجہ حاصل کر سکتی ہے، مگر حکومت بنانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ماہرین کے مطابق جماعت کی کامیابی بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ روابط میں بہتری کا امکان ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ  یہ الیکشن اسلام بمقابلہ سیکولرازم نہیں بلکہ اصلاحات بمقابلہ اسٹیٹس کو کا مقابلہ ہے۔ جو اتحاد بہتر حکمرانی اور استحکام کا واضح روڈمیپ دے گا، وہی بازی لے جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مجھ سے جلنے والوں کی اپنی کوئی پہچان نہیں، دیدار کے الزامات پر ریشم کا سخت ردعمل

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

پاکستان کی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کی مذمت، جنگی جرم قرار

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

بنگلہ دیش: بی این پی رہنما الیاس علی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں نئے انکشافات، سابق حکومت پر سنگین الزامات

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟