بنگلہ دیشی انتخابات: بی این پی اتحاد دو نشستوں پر امیدوار سے محروم، جماعت اسلامی کو کوئی بحران درپیش نہیں

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے ابتدائی جانچ پڑتال میں نااہل قرار دیے گئے امیدواروں میں سے اکثریت کی امیدواریاں بحال کر دی ہیں۔ تاہم، بی این پی کی قیادت میں قائم اتحاد اس وقت 2 حلقوں میں امیدواروں سے محروم ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے اتحاد کو اس حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات سے قبل سی آئی ڈی اور ٹک ٹاک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران مسترد کیے گئے 723 امیدواروں میں سے 425 کی امیدواریاں اپیلوں کے بعد بحال کر دی گئی ہیں، جو کہ مجموعی طور پر تقریباً 59 فیصد بنتی ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں بحال ہونے والی امیدواروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ امیدواروں کی دستبرداری کی آخری تاریخ منگل ہے، جبکہ بدھ کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے، جس کے بعد باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز ہوگا۔ قومی انتخابات اور ریفرنڈم 12 فروری کو منعقد ہوں گے۔

اپیلوں کی سماعت کے دوران جن امیدواروں کو قرض نادہندگی یا دہری شہریت کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا تھا، ان میں سے بڑی تعداد نے اپنی اہلیت ثابت کر دی۔ دہری شہریت کے الزام میں مسترد کیے گئے 26 میں سے 23 امیدواروں نے غیر ملکی شہریت ترک کرنے کے ثبوت جمع کروا کر اپنی امیدواریاں بحال کرائیں، تاہم ایک سماجی کارکن نے اس فیصلے کو آئین اور عدالتی احکامات کے خلاف قرار دیتے ہوئے شکایت دائر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر کا انصاف پر مبنی نظام اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور

بی این پی نے 292 حلقوں میں امیدوار نامزد کیے تھے اور 8 نشستیں اتحادی جماعتوں کے لیے چھوڑی تھیں۔ مجموعی طور پر بی این پی کے 4 امیدوار قرض نادہندگی یا دہری شہریت کے باعث نااہل قرار پائے۔ چونکہ کوملہ-4 اور چٹاگانگ-2 میں متبادل امیدوار موجود نہیں تھے، اس لیے ان 2 حلقوں میں بی این پی اتحاد اس وقت امیدوار سے محروم ہے۔ تاہم ان حلقوں کے مسترد شدہ امیدواروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب، جماعت اسلامی نے 276 حلقوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ ابتدائی طور پر 8 امیدوار مسترد ہوئے، مگر اپیل کے بعد تمام کی امیدواریاں بحال کر دی گئیں۔ جماعت کے اتحادی نیشنل سٹیزن پارٹی کا واحد مسترد شدہ امیدوار بھی دوبارہ اہل قرار پایا۔ جماعت اسلامی کی قیادت کے مطابق اتحاد کے تحت نشستوں کی ایڈجسٹمنٹ کے باعث کسی قسم کا بحران پیدا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: چیف الیکشن کمشنر کی تمام فریقین سے شفاف انتخابات کے لیے تعاون کی اپیل

جاتیہ پارٹی اپیلوں کے عمل سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی جماعت رہی، جس کے 44 میں سے 36 مسترد امیدوار بحال ہوئے اور اب اس کے 195 حلقوں میں امیدوار موجود ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش نے بھی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد 25 میں سے 20 امیدواروں کی اہلیت بحال کرا لی۔

الیکشن کمیشن نے آزاد امیدواروں کے معاملے میں بھی نرمی برتی، جہاں تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر مسترد کیے گئے 366 میں سے 162 امیدوار اپیل کے بعد دوبارہ اہل قرار پائے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین کے مطابق کمیشن نے غیر جانبداری کے ساتھ جامع اور شمولیتی انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے فیصلے کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ میں زیر التوا مزید اپیلوں کے فیصلوں کے بعد انتخابی امیدواروں کی حتمی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس میں بڑا سیاسی بحران 2 اراکین جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد مستعفی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا