مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی اوپن اے آئی دنیا بھر میں اے آئی کے استعمال کو عام بنانے کے لیے سرگرم ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے جذباتی تعلقات طلاقوں کی نئی وجہ بنتے جا رہے ہیں، انتباہ
غیرملکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے تحت کمپنی بین الاقوامی حکام کو مزید ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے پر آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے جیسے شعبوں میں اے آئی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کا بنیادی مقصد اپنی مصنوعات کے دائرۂ کار کو وسعت دینا اور مختلف ممالک کے درمیان موجود تکنیکی فرق کو کم کرنا ہے کیونکہ کمپنی کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی کے بغیر عالمی ترقی ممکن نہیں۔
پیچیدہ سوچ رکھنے والے نئے اے آئی سسٹمز
اوپن اے آئی کو توقع ہے کہ پیچیدہ نوعیت کے تجزیاتی اور منطقی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والے اس کے جدید اے آئی سسٹمز صارفین کو مزید گہرے استعمال کی جانب راغب کریں گے۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے تاریک پہلو کیا ہیں، دنیا میں کتنے افراد استعمال کر رہے ہیں؟
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ممالک اب بھی اس سطح سے کہیں کم پر کام کر رہے ہیں جو آج کے جدید اے آئی سسٹمز ممکن بنا سکتے ہیں۔
عالمی منصوبے کا آغاز
اوپن اے آئی نے بتایا کہ یہ عالمی اقدام گزشتہ سال اس وقت شروع ہوا جب برطانوی وزیر خزانہ کے سابق عہدیدار جارج اوسبورن کو اس منصوبے کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا۔
کمپنی کے چیف گلوبل افیئرز افسران، جارج اوسبورن اور کرس لہانے اس ہفتے ڈیووس کے دورے کے دوران حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد عالمی اے آئی انقلاب میں اوپن اے آئی کی قیادت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ممکنہ عوامی پیشکش اور بڑھتی قدر
فی الحال اوپن اے آئی، جس کی حالیہ قدر تقریباً 500 ارب ڈالر لگائی گئی ہے، ایک ممکنہ عوامی پیشکش (آئی پی او) پر غور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے میں شراکت داری
اوپن اے آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کمپنی آفات سے نمٹنے اور منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں بھی شراکت داری کی خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کمالات: بزرگوں کی خدمت گار، نابیناؤں کی ’آنکھ‘، اور بہت کچھ!
جنوبی کوریا میں اوپن اے آئی حکومت کی واٹر اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ریئل ٹائم آبی آفات کی وارننگ اور دفاعی نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے آبی بحران سے نمٹنا ہے۔
استعمال میں نمایاں فرق
اوپن اے آئی کے مطابق اس کے عام صارفین کے مقابلے میں 95ویں فیصد میں آنے والے ’پاور یوزرز‘ جدید منطقی صلاحیتوں کا استعمال 7 گنا زیادہ کرتے ہیں۔ یہ فرق نہ صرف مختلف ممالک بلکہ ایک ہی ملک کے اندر بھی نمایاں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیرِ اطلاعات کا انتباہ: مصنوعی ذہانت اور تخلیقی روزگار کا مستقبل
ماہرین کے مطابق آنے والے سال یہ طے کریں گے کہ اوپن اے آئی کس حد تک مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی جدت سے نکال کر عملی اور روزمرہ استعمال کا مؤثر ذریعہ بنا پاتی ہے۔














