سانحہ گل پلازہ: کیا کراچی جیسے میگا سٹی میں موجود فائر اسٹیشنز کافی ہیں؟

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد شہر کے فائر فائٹنگ سسٹم پر سرکاری اور عوامی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔ سرکاری دستاویزات اور حالیہ خبروں کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے تحت اس وقت شہر میں صرف 29  فائر اسٹیشنز فعال ہیں۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق کراچی جیسے 3 کروڑ کی آبادی والے میگا سٹی کے لیے کم از کم 300 فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ تعداد ضرورت کا 10 فیصد بھی نہیں ہے

یہ بھی پڑھیے: فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے

کے ایم سی کے پاس مجموعی طور پر تقریبا 43 فائر ٹینڈرز موجود ہیں، لیکن ان میں سے اکثر وقت پر فعال نہیں ہوتے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق عام طور پر 15 سے 20 گاڑیاں ہی فوری الرٹ پر موجود ہوتی ہیں۔

بلند و بالا عمارتوں کے لیے شہر میں صرف 8 اسنارکلز ہیں، جن میں سے اکثر تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتی ہیں۔ 2 باؤزر جبکہ ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ موجود ہے گل پلازہ سانحہ میں دیکھا گیا ہے کہ کئی آگ بھجانے والی گاڑیوں کے نوزلز خراب تھے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس لگ بھگ 913 ملازمین ہیں ان ملازمین کے حوالے سے حال میں لگنے والی گل پلازہ آگ کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس نہ ہی ضروری سامان تھا اور نہ ہی انہیں آگ میں جانے کا لباس دیا گیا۔ شہر کی وسعت کے لحاظ سے کم از کم 34,000 تربیت یافتہ فائر فائٹرز کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

حالیہ سرکاری آڈٹ اور رپورٹس کے مطابق صرف سال 2025 میں کراچی میں 2,400 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ کراچی کی 266 اہم بلند عمارتوں کے آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ ان میں سے صرف 6 عمارتوں میں مکمل فائر سیفٹی سسٹم موجود تھا، شہر کی 60 فیصد سے زائد تجارتی عمارتوں میں ہنگامی نکاس کے راستے ہی موجود نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی

کے ایم سی کے علاوہ کراچی میں دیگر ادارے بھی ضرورت کے وقت اپنے فائر اسٹیشنز استعمال کرتے ہیں جن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیوی، سندھ ایمرجنسی سروس شامل ہیں۔

کراچی میں فائر اسٹیشنز کی تعداد 29 ہے، شہر کی آبادی اور رقبے کے حساب سے انتہائی کم ہے۔ حالیہ گل پلازہ سانحے کے بعد سندھ اسمبلی میں فائر فائٹنگ سسٹم کو جدید بنانے کی قرارداد بھی منظور کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف

وی چیلنج: خواتین نے دلچسپ سوالات کے جوابات دے کر جیتے بیش قیمت انعامات

بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں خواتین کا استعمال، سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک پر کاری وار

بین المذاہب ہم آہنگی اور ابراہیمی معاہدہ

کیا عید پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے؟

ویڈیو

وی چیلنج: خواتین نے دلچسپ سوالات کے جوابات دے کر جیتے بیش قیمت انعامات

پشاور کے مہندی آرٹسٹ محمد حنان علی جن سے خواتین بخوشی حنا لگواتی ہیں

اصل غربت دل کی ہوتی ہے، دل تنگ ہو تو دولت بھی بے کار ہے

کالم / تجزیہ

بین المذاہب ہم آہنگی اور ابراہیمی معاہدہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے