حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد شہر کے فائر فائٹنگ سسٹم پر سرکاری اور عوامی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔ سرکاری دستاویزات اور حالیہ خبروں کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے تحت اس وقت شہر میں صرف 29 فائر اسٹیشنز فعال ہیں۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق کراچی جیسے 3 کروڑ کی آبادی والے میگا سٹی کے لیے کم از کم 300 فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ تعداد ضرورت کا 10 فیصد بھی نہیں ہے
یہ بھی پڑھیے: فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے
کے ایم سی کے پاس مجموعی طور پر تقریبا 43 فائر ٹینڈرز موجود ہیں، لیکن ان میں سے اکثر وقت پر فعال نہیں ہوتے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق عام طور پر 15 سے 20 گاڑیاں ہی فوری الرٹ پر موجود ہوتی ہیں۔
بلند و بالا عمارتوں کے لیے شہر میں صرف 8 اسنارکلز ہیں، جن میں سے اکثر تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتی ہیں۔ 2 باؤزر جبکہ ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ موجود ہے گل پلازہ سانحہ میں دیکھا گیا ہے کہ کئی آگ بھجانے والی گاڑیوں کے نوزلز خراب تھے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت
فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس لگ بھگ 913 ملازمین ہیں ان ملازمین کے حوالے سے حال میں لگنے والی گل پلازہ آگ کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس نہ ہی ضروری سامان تھا اور نہ ہی انہیں آگ میں جانے کا لباس دیا گیا۔ شہر کی وسعت کے لحاظ سے کم از کم 34,000 تربیت یافتہ فائر فائٹرز کی ضرورت بتائی گئی ہے۔
حالیہ سرکاری آڈٹ اور رپورٹس کے مطابق صرف سال 2025 میں کراچی میں 2,400 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ کراچی کی 266 اہم بلند عمارتوں کے آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ ان میں سے صرف 6 عمارتوں میں مکمل فائر سیفٹی سسٹم موجود تھا، شہر کی 60 فیصد سے زائد تجارتی عمارتوں میں ہنگامی نکاس کے راستے ہی موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی
کے ایم سی کے علاوہ کراچی میں دیگر ادارے بھی ضرورت کے وقت اپنے فائر اسٹیشنز استعمال کرتے ہیں جن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیوی، سندھ ایمرجنسی سروس شامل ہیں۔
کراچی میں فائر اسٹیشنز کی تعداد 29 ہے، شہر کی آبادی اور رقبے کے حساب سے انتہائی کم ہے۔ حالیہ گل پلازہ سانحے کے بعد سندھ اسمبلی میں فائر فائٹنگ سسٹم کو جدید بنانے کی قرارداد بھی منظور کی گئی ہے۔











