امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز اور سیئنا یونیورسٹی کے تازہ سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال بعد بھی امریکی ووٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ ملک کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کی ترجیحات غلط ہیں۔
سروے کے مطابق صرف 32 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ملک کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، جبکہ 49 فیصد کا ماننا ہے کہ حالات پہلے سے خراب ہیں۔
غلط ترجیحات پر توجہ کا الزام
اکثریت، یعنی 57 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اہم مسائل کے بجائے غلط ترجیحات پر توجہ دی۔ 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں یہ شرح 69 فیصد تک پہنچ گئی، جو کسی بھی عمر کے گروپ میں سب سے زیادہ ہے۔
اہم قومی مسائل پر ناپسندیدگی
اکثر ووٹرز نے معیشت، مہنگائی، امیگریشن، روس یوکرین جنگ، وینزویلا میں امریکی کردار اور دیگر اہم معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسند کیا۔ 51 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کی زندگی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ حد تک گر گئی
صدر کی مقبولیت میں کمی
صدر ٹرمپ کی مجموعی منظوری کی شرح 40 فیصد رہ گئی ہے، جو ستمبر کے بعد 3 پوائنٹس کم ہوئی ہے، جبکہ 56 فیصد ووٹرز ان سے نالاں ہیں۔ صرف 42 فیصد ووٹرز نے ان کے پہلے سال کو کامیاب قرار دیا۔

ملک شدید سیاسی تقسیم کا شکار
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکا کو شدید سیاسی تقسیم میں مبتلا کر دیا ہے۔ 42 فیصد ووٹرز انہیں امریکی تاریخ کے بدترین صدور میں سے ایک سمجھتے ہیں
جبکہ 19 فیصد انہیں بہترین صدور میں شمار کرتے ہیں درمیانی رائے رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
ریپبلکن حمایت برقرار، مگر دراڑیں نمایاں
ریپبلکن ووٹرز کی اکثریت اب بھی ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم مہنگائی، خارجہ پالیسی اور جیفری ایپسٹین فائلز کے معاملے پر ان کے اندر بھی ناپسندیدگی دیکھی گئی۔
ایپسٹین کیس پر ٹرمپ کو اپنی ہی پارٹی میں صرف 53 فیصد حمایت ملی، جو سب سے کم ہے۔
آزاد ووٹرز میں شدید ناراضی
انتخابات کا رخ متعین کرنے والے آزاد ووٹرز میں سے صرف 34 فیصد ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ 52 فیصد آزاد ووٹرز کے مطابق ملک کی حالت خراب ہوئی ہے، جبکہ صرف 24 فیصد نے بہتری کی بات کی۔
2026 کے انتخابات: ڈیموکریٹس کو برتری
اگر آج وسط مدتی انتخابات ہوں تو 48 فیصد ووٹرز ڈیموکریٹس 43 فیصد ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ آزاد ووٹرز میں ڈیموکریٹس کو 15 فیصد پوائنٹس کی واضح برتری حاصل ہے۔
عمر کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں
ٹرمپ اس سال 80 برس کے ہو جائیں گے اور اپنی مدت کے اختتام پر تاریخ کے معمر ترین صدر ہوں گے، تاہم 58 فیصد ووٹرز کے مطابق ان کی عمر رکاوٹ نہیں 40 فیصد نے انہیں بہت زیادہ بوڑھا قرار دیا۔
یہ تناسب جو بائیڈن کے مقابلے میں ٹرمپ کے لیے کہیں بہتر ہے۔

مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ
امریکی عوام کے لیے مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معیشت سب سے اہم مسائل ہیں۔
صرف 24 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے زندگی کو سستا بنایا، جبکہ 34 فیصد نے مہنگائی سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو درست قرار دیا۔
امیگریشن پر ملی جلی رائے
نصف ووٹرز غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن 61 فیصد نے کہا کہ آئی سی ای (ICE) حد سے زیادہ سختی کر رہی ہے 63 فیصد نے ادارے کی مجموعی کارکردگی کو ناپسند کیا۔
یہ ردعمل حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں منیاپولس میں ایک آئی سی ای افسر کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہوئیں۔
رائے عامہ کے جائزے پر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ شاید میری پبلک ریلیشنز ٹیم کمزور ہے، ہم اپنی کامیابیاں عوام تک نہیں پہنچا پا رہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، معاشی پالیسیاں عوامی غصے کی زد میں
مزید براں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دی نیویارک ٹائمز کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ’ٹائمز سیئنا پول کو بھی مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ ناکام نیویارک ٹائمز کو ان کے انتہا پسند بائیں بازو کے جھوٹ اور غلط کاریوں کا مکمل حساب دینا ہوگا۔‘














